امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کی پٹی کو خرید کرملکیت میں لینے اور اس کے باشندوں کو دوسرے ممالک میں آباد کرنے کے منصوبے کے بعد بین الاقوامی، عرب اور اقوام متحدہ کی طرف سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے منصوبے کی مخالفت کرنے والے اس کا کوئی متبادل منصوبہ سامنے لائیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ غزہ سے ملبہ ہٹانے اور گھروں کی تعمیر نو کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ "ٹرمپ وہ واحد شخص ہیں غزہ کی تعمیر نو کے لیے مدد کو تیار ہیں‘‘۔
انہوں نے ان ممالک سے بھی مطالبہ کیا جو غزہ کی تعمیر نو کے لیے خیالات اور اقدامات کی پیشکش کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ " ٹرمپ کے منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کے پاس کوئی بہتر حل ہے تو یہی وقت ہے وہ پیش کریں"۔
دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ
امریکی سفارتی اہلکار نے وضاحت کی کہ "مشرق وسطی میں اس وقت تک امن نہیں ہو گا جب تک کہ حماس جیسا گروپ مؤثر طریقے سے علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے اور غزہ میں سب سے زیادہ غالب طاقت ہے"۔
روبیو نے کہا کہ "دو ریاستی حل کے لیے سب سے بڑا چیلنج اسرائیل نہیں۔ سوال یہ ہے کہ فلسطینی ریاست پر حکومت کون کرے گا؟ اس کا انچارج کون ہوگا؟ اگر یہ حماس یا حزب اللہ یا اس جیسی کوئی اور قوت ہو تو وہ یہودی ریاست کو تباہ کرنے کے لیے کام کرے گی جیسا کہ حماس اور حزب اللہ کررہی ہیں‘۔
کل سوموار کو ٹرمپ نے صدارتی طیارے میں سفر کے دوران صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ساحلی پٹی کے کچھ حصے مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کو تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کے لیے دے سکتے ہیں۔