من صنعاء (أرشيفية- أسوشييتد برس)

ٹرمپ نے غزہ کے شہریوں پر نقل مکانی مسلط کی تو دوبارہ حملے کریں گے: حوثیوں کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے مکینوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے پر اصرار کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری اور عرب ملکوں کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کیا جارہا ہے۔

دوسری طرف ٹرمپ کی اس تجویز کے خلاف حوثیوں نے بھی نئی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ تقریباً ایک ماہ قبل بحیرہ احمر میں اور اسرائیل کی طرف اپنے حملوں کو روکنے کے بعد حوثیوں کے رہنما عبدالملک حوثی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اگر ٹرمپ حماس کے لیے اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو یہ گروپ نئے حملے کرے گا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

عبد الملک حوثی نے مزید کہا کہ اگر امریکی انتظامیہ نے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ مسلط کیا تو وہ میزائلوں، ڈرونز اور بحری جہازوں سے حملے کریں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا تو گروپ فوری طور پر فوجی کارروائی کرے گا۔ یاد رہے امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ حماس نے ہفتے کی دوپہر تک تمام اسرائیلی یرغمالی رہا نہ کیے تو وہ جنگ بندی کا معاہدہ منسوخ کر دیں گے اور غزہ کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیں گے۔

ثالثوں کا دباؤ

جنگ بندی معاہدے کے خاتمے کی دھمکیوں کے بعد ثالثوں نے معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل اور حماس پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا اور دونوں پر زور دیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل کیا جائے اور ہفتہ کے روز یرغمالیوں اور قیدیوں کی تبادلہ منصوبے کے مطابق عمل میں لایا جائے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

گزشتہ چند دنوں کے دوران ٹرمپ نے بار بار تباہ غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے اور اس کے باشندوں کو پڑوسی ممالک خاص طور پر مصر اور اردن میں منتقل کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا ہے۔

ٹرمپ کا اصرار اس کے باوجود جاری رہا ہے کہ مصر اور اردن نے متعدد بار فلسطینیوں کی نقل مکانی مسترد کی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ 16 ماہ کی اسرائیلی بمباری اور گولہ باری سے تباہ ہو جانے والی غزہ کی پٹی کو مشرق وسطی کے لیے ساحلی مقام میں تبدیل کردیا جائے گا۔ ٹرمپ کے ان بیانات کی بین الاقوامی سطح پر عرب دنیا کے ممالک کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں