برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے یوکرین میں "منصفانہ اور دیرپا امن کے قیام کی ضرورت" پر زور دیا ہے ۔ یہ بات ڈاؤننگ سٹریٹ کے ایک ترجمان نے بتائی ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے تقریباً تین سال بعد ہفتے کی صبح ٹیلی فون پر مشاورت کرنے والے دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یورپ کو مشترکہ یورپی مفاد اور سلامتی کے حوالے سے پابند رہنا چاہیے۔
کیئر سٹارمر کے ترجمان نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم اور یورپی کمیشن کے صدر نے یوکرین میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ترجمان نے وضاحت کی کہ دونوں نے غیر قانونی روسی جنگ کی قریب آنے والی تیسری برسی کے موقع پریورپ میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ یورپی حمایت کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
برطانوی وزیر اعظم سٹارمر نے زور دیا کہ وہ آنے والے دنوں اور ہفتوں کے دوران اس مسئلے کے بارے میں اہم بات چیت جاری رکھیں گے۔ واشنگٹن کے اپنے آئندہ دورے کے دوران ٹرمپ سے ملاقات میں بھی اس حوالے سے بات چیت ہوگی۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پیر کے روز جنگ شروع ہونے کی تیسری برسی سے قبل اور واشنگٹن اور کیف کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سیکڑوں افراد نے ہفتے کے روز یوکرین کی حمایت میں مارچ نکالا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
جنگ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی ۔ برطانیہ تب سے یوکرین کا بڑا حامی رہا ہے۔ اس نے ماسکو پر پابندیاں عائد کیں۔ کیف کو مالی اور فوجی مدد فراہم کی اور 250,000 سے زیادہ یوکرینی مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں کھول دیں۔ گزشتہ ہفتے کیے گئے YouGov کے سروے کے مطابق برطانوی یوکرین کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور ان میں سے 67 فیصد نے یوکرین کے لیے جنگ جیتنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
پول کے مطابق دس میں سے آٹھ برطانویوں نے کہا کہ یوکرین کے لیے تنازع پر مذاکرات میں شامل نہ ہونا "ناقابل قبول" ہے۔ یورپیوں کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ ایسی شرائط پر جنگ ختم کر دیں گے جو کیف کو سکیورٹی کی ضمانتیں دیے بغیر ماسکو کے حق میں ہوں گی۔ فرانسیسی صدر میکرون پیر کو واشنگٹن پہنچ رہے ہیں۔
ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق ہفتہ کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ایک علیحدہ کال کے دوران سٹارمر نے یوکرین کے لیے ثابت قدم حمایت کا اعادہ کیا۔ سٹارمر اور زیلنسکی نے اتفاق کیا کہ یہ یوکرین کے مستقبل اور مجموعی طور پر یورپی سلامتی کے لیے ایک اہم لمحہ ہے۔ سٹارمر نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ یوکرین کسی بھی ایسے مذاکرات کا مرکز ہونا چاہئے جن کا مقصد جنگ کو ختم کرنا ہو۔