شام میں حمیمیم بیس کے قریب روسی گاڑی

اسرائیل شام میں روسی فوجی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا خواہاں:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نجی عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے ملٹری سیکرٹری میجر جنرل رومن گوفمین کو حالیہ دنوں میں ماسکو بھیجا تاکہ وہ روسی حکام کے ساتھ سکیورٹی اور سیاسی ملاقاتوں میں شام میں روسی فوج کی موجودگی کو برقرار رکھنے کےلیے انہیں قائل کرسکیں۔

اخبار نے نشاندہی کی کہ اس دورے کے تناظر میں تل ابیب کا مقصد شام میں روسی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا ہے۔

مؤقر عبرانی اخبار کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی کوآرڈینیشن کو بڑھانا ہے، اس کے علاوہ روس پر زور دینا ہے کہ وہ ثالثوں کے ذریعے حماس پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر مذاکرات کو آگے بڑھائے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکہ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ شام "کمزور" رہے۔ اس کے علاوہ روس کو وہاں اپنے فوجی اڈے برقرار رکھنے کی اجازت دینا اسرائیل کی ضرورت ہے۔

شام کے بارے میں اسرائیلی حکام کے بیانات 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اقتدار سنبھالنے والی نئی انتظامیہ پر غصے کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسرائیل نے اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی نئی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کے بفر زون پر قبضہ کر لیا اور 1974 میں شام کے ساتھ علیحدگی کے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کیا۔

تل ابیب نے حال ہی میں شامی انتظامیہ کے خلاف بھی بڑھ چڑھ کر 24 فروری کو دھمکی دی تھی کہ وہ نئی شامی فوج کو دمشق کے جنوب میں تعینات کرنے کی "اجازت نہیں دے گا"۔ اس نے کہا کہ وہ "جنوبی شام میں دروز کمیونٹی کے لیے کوئی خطرہ قبول نہیں کرے گا"۔

شام میں نئے حکام تمام فرقوں کے حقوق پر زور دیتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں