درعا میں شامی افواج کے عناصر - اے ایف پی

بشار حامی گروپوں سے جھڑپیں، شامی سکیورٹی فورسز نے جبلہ میں مزید کمک بھیج دی

لاذقیہ اور طرطوس گورنری کے مرکز پر شامی فورسز کا کنٹرول، بشار الاسد کی باقیات کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کے روز شامی سکیورٹی حکام نے لاذقیہ اور طرطوس میں سابق حکومت کی باقیات کے خلاف وسیع کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا بتایا ہے۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ شامی افواج نے طرطوس اور لاذقیہ گورنری کے مرکز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور وہ دیہی علاقوں میں داخل ہونے کی تیاری کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شامی افواج نے لاذقیہ گورنری کے مرکز پر اپنا کنٹرول بڑھا دیا ہے۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ شامی سکیورٹی فورسز نے جبلہ میں مزید کمک بھیجی ہے۔ شام کے ساحل پر جبلہ کے کئی علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔ العربیہ کے نامہ نگار نے بتایا کہ شام کی سابق حکومت کی باقیات کی طرف سے گھات لگا کر حملے کیے گئے تھے۔ یہ حملے مربوبط اور منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے۔ شام میں بشار الاسد کی باقیات کے خلاف موجودہ سکیورٹی مہم اب تک کی سب سے بڑی مہم ہے۔

اس پیش رفت کی روشنی میں شامی خبر رساں ایجنسی ۔ ’’سانا‘‘ نے ایک سکیورٹی ذریعہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ لاذقیہ اور طرطوس گورنری کے شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ گھنٹوں کے دوران جمعرات کی رات سے جمعہ کی صبح تک شامی فوج اور سابق حکومت کی باقیات سے وابستہ عناصر کے درمیان پرتشدد جھڑپیں دیکھی گئی ہیں۔ اس حملے کے بعد بشار الاسد حکومت کی باقیات نے حلب- لاذقیہ روڈ پر فوجی قافلے پر حملہ کیا تھا۔

العربیہ اور الحدث کے کیمروں نے شام کے ساحل پر شامی افواج کی حمایت کے لیے ادلب کے دیہی علاقوں میں کیمپوں سے ایک بڑی فوجی فورس کی روانگی کو نوٹ کیا ہے۔ شامی فوج کے سیکڑوں جنگجو بھی حکومت کی باقیات کا مقابلہ کرنے کے لیے شام کے ساحل کی طرف جانے کی تیاری میں دارالحکومت دمشق کے اموی سکوائر پر پہنچ گئے ہیں۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ شامی فوج کے ایک قافلے پر حلب- لاذقیہ روڈ پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد پر تشدد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ حلب- لاقیہ سڑک کی گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں بھی بہت بڑا فوجی قافلہ شام کے ساحل کی طرف بڑھتا ہوا دکھایا گیا ہے۔

شامی فوج سے تعلق رکھنے والا ایک اور فوجی قافلہ حلب کے مشرق میں واقع شہر الباب سے شام کے ساحل کی طرف روانہ ہوا تاکہ بشار کی باقیات کے حملوں کو پسپا کرنے کی کوششوں میں سکیورٹی فورسز اور وزارت دفاع کی مدد کی جا سکے۔ شامی فوج کے فیلڈ کمانڈر محمد حسین نے کہا ہے کہ وزارت دفاع اور شامی حکومت کا یہ اقدام کسی مخصوص فرقے کے خلاف نہیں بلکہ پورے شامی سرزمین پر سکیورٹی بڑھانے اور تقسیم کو روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ جبلہ میں شامی پبلک سکیورٹی فورسز کے 16 سے زیادہ ارکان حکومت کی باقیات کے بیک وقت حملوں میں مارے گئے ہیں۔ وزارت دفاع کی جانب سے بھاری فوجی کمک کی آمد کے ساتھ نیول کالج کے آس پاس پرتشدد جھڑپیں ہورہی ہیں۔ العربیہ کے کیمروں نے شامی شہر جبلہ کے اندر سے خصوصی مناظر حاصل کیے ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ شامی افواج نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا اور بشار الاسد حکومت کے حامی افراد کو نکال باہر دیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں