امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ: رائیٹرز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "میں اب سے ڈیڑھ ماہ کے اندر سعودی عرب کا دورہ کروں گا"۔ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ٹرمپ کا پہلا بیرون ملک دورہ ہو گا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے حلف اٹھانے کے بعد کسی غیر ملکی قائد کے ساتھ پہلا ٹیلی فون رابطہ سعودی ولی عہد سے کیا تھا۔ امریکی حلقوں نے اسے 80 برس سے بنیادی شراکت دار اور دوست کی حیثیت رکھنے والے ملک کے لیے ایک بھرپور پیغام قرار دیا تھا۔
اس سے قبل امریکی صدر واضح کر چکے ہیں کہ وہ اپنے دورے میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ العربیہ کو دیے خصوصی انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ "خطے میں دوبارہ سے امن کی خاطر سعودی ولی عہد کے ساتھ کام کریں گے"۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
رواں سال ڈیووس کانفرنس میں ٹرمپ نے یہ کہا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ایک عظیم شخصیت ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق بن سلمان کے ساتھ ان کا اچھا تعلق ہے۔ ٹرمپ نے توجہ دلائی کہ سعودی عرب ، امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ امریکی صدر کے مطابق وہ سرمایہ کاری کا حجم 10 کھرب ڈالر تک لے جانے کے امکان پر ولی عہد کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
ریاض - واشنگٹن استحکام یقینی بنانے کی مساوات
امریکی کانگرس کے رکن جو ویلسن نے امریکا اور سعودی عرب کے بیچ تعلقات کو عالمی استحکام یقینی بنانے اور ایرانی نظام کے مقابلے کے لیے ضروری قرار دیا۔
یاد رہے کہ 1931 سے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان خصوصی تعلقات احترام، متبادل تعاون اور مشترکہ مفادات کی ٹھوس بنیادوں پر قائم ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کا آغاز سعودی عرب میں تجارتی بنیادوں پر تیل کی تلاش اور پیداوار کے سفر کے آغاز پر ہوا۔
دنیا سعودی عرب اور امریکا کے بیچ تعلقات کو خطے اور دنیا میں امن اور معیشت کے فروغ کے لیے بنیادی محور کے طور پر دیکھتی ہے۔ اس لیے کہ یہ دونوں ممالک عالمی امن اور سیکیورٹی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ان ملکوں کی سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی حیثیت اور G20 گروپ میں ان کی رکنیت ہے۔