A handout photo made available by the Iranian Army office on December 28, 2019 shows a view of the Chinese People's Liberation Army Navy Surface Force Type 052D destroyer Xining (117), the Islamic Republic of Iran Navy frigate ALBORZ (72), and the Russian Navy Neustrashimyy-class frigate Yaroslav Mudry during joint Iran-Russia-China naval drills in the Indian Ocean and the Gulf of Oman. (AFP)
ایران، روس اور چین مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے
مقصد تینوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کا فروغ ہے
ایرانی میڈیا نے اتوار کے روز اطلاع دی کہ ایران، روس اور چین کی بحری افواج تعاون کو فروغ دینے کے لیے رواں ہفتے ایران کے ساحل پر فوجی مشقیں کریں گی۔
امریکی تسلط کا مقابلہ کرنے کے مشترکہ خواہش مند تینوں ممالک حالیہ برسوں میں خطے میں اسی طرح کی مشقیں کر چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے تسنیم نے مشقوں کے دورانیے کی وضاحت کیے بغیر کہا ہے کہ یہ "منگل کو چابہار بندرگاہ پر شروع ہوں گی" جو خلیج عمان میں جنوب مشرقی ایران میں واقع ہے۔
تسنیم کے مطابق "چینی اور روسی بحری افواج کے جنگی جہاز اور دیگر معاون بحری جہازوں کے ساتھ ساتھ ایرانی بحریہ کی فوج اور ایرانی فوج کی نظریاتی شاخ پاسدارانِ انقلاب کے جنگی جہازوں کی شرکت متوقع ہے۔"
تسنیم نے کہا، مشقیں "شمالی بحرِ ہند میں" ہوں گی اور ان کا مقصد "خطے میں سلامتی کو مضبوط بنانا اور شریک ممالک کے درمیان کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔"
آذربائیجان، جنوبی افریقہ، عمان، قازقستان، پاکستان، قطر، عراق، متحدہ عرب امارات اور سری لنکا بطور مبصرین شرکت کریں گے۔
بیجنگ کی وزارتِ دفاع نے وی چیٹ سوشل میڈیا نیٹ ورک پر کہا، چین "ایک ڈسٹرائر اور سپلائی جہاز تعینات کرے گا۔"
ایرانی فوج نے فروری میں اسی علاقے میں "کسی بھی خطرے کے خلاف دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے" کے لیے مشقیں کی تھیں۔