تہران اپنے فیصلے خود کرتا ہے:ایران کو ٹرمپ کے پیغام پر روس کا رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سےایران کو لکھے گئے مکتوب پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ تہران اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔کریملن نے پیر کو زور دیا کہ ایران اپنی سیاسی پوزیشن کا تعین خود کرتا ہے۔

ایک اور تناظر میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے زور دیا کہ "شام میں تشدد جلد از جلد ختم ہونا چاہیے"۔

ایرانی قیادت سے خطاب

روسی ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے گذشتہ جمعہ کو انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے بدھ کے روز ایرانی قیادت کو ایک مکتوب بھیجا تھا، جس میں انہوں نے جوہری مذاکرات کے انعقاد کی تجویز پیش کی تھی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی حکام کے لیے جنگ سے مذاکرات بہت بہتر ہوں گے۔

ایران کا رد عمل

امریکی صدر کے بیان پر ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ہفتے کے روز ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ تہران دباؤ میں آکر مذاکرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ "بعض آمرانہ حکومتوں کا مذاکرات پر اصرار مسائل کے حل کے لیے نہیں بلکہ تسلط کے مقصد کے لیے ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے مذاکرات سے ایران اور مغرب کے درمیان مسائل حل نہیں ہوں گے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے ایران کی جانب سے نئے جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے ٹرمپ کے مطالبے کو مسترد کرنے کا جواب دیا۔ امریکی انتظامیہ نے کہا کہ تہران کے معاہدے یا جنگ کے ذریعے نمٹا جاسکتا ہے۔

دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ "ٹرمپ کے دوسرے ممالک کے ساتھ اقدامات سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں ان کے دعوے محض اسے غیر مسلح کرنے کی ایک چال ہے۔"

انہوں نے کل اتوار کو اپنے بیانات میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران امریکہ کے کسی پیغام کا انتظار نہیں کرے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں