مطریہ افطار فیشن شو
افطارپارٹی کے دوران منعقد ہونے والا فیشن شو،کیا یہ روزے کے روحانی ماحول کےخلاف ہے؟
مطریہ افطار پارٹی صرف کھانے پینے کی اشیا تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اس میں فیشن شو جیسا ایک انوکھا ایونٹ بھی منعقد کیا گیا۔
مصر میں رمضان المبارک کے دوران ایک مشہور افطار پارٹی کے دوران نوجوانوں کے فیشن شو کے انعقاد پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔ مطریہ میں منعقدہ یہ ایسا منفرد اور انوکھا پروگرام ہے جس کے گلی گلی چرچے ہو رہے ہیں۔ اس ایونٹ میں مقامی لوگوں، موجودہ اور سابقہ عہدیداروں اور متعدد مشہور شخصیات ک نے شرکت کرکے اسے اور بھی مقبول بنا دیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے والے اس ایونٹ پر ملا جلا رد عمل دیکھا جا رہا ہے۔ صارفین کی طرف سے تنقید کی ایک وجہ اس میں نوجوانوں کا عجیب و غریب فیشن شو اور کیٹ واک شو پیش کرنا ہے۔
گذشتہ ہفتہ کی شام کو منعقد ہونے والی افطاری کا انعقاد ہر سال مطریہ کے رہائشیوں کی جانب سے کیا جاتا ہے جس میں شرکت کرنے والوں میں وزیرِ برائے امور نوجوانان مایا مرسی اور قاہرہ کے گورنر بھی شامل تھ۔
مطریہ افطار فیشن شو
مطریہ افطار پارٹی صرف کھانے پینے تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ اس میں ایک منفرد تقریب بھی شامل تھی۔ یہ تقریب ایک فیشن شو اور کیٹ واک شو کی تھی جس نے عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔
نمائش میں موجود فیشنوں کو روشن رنگوں کے ساتھ ساتھ لوک داستانوں سے متاثر ان کے غیر روایتی ڈیزائنوں سے ممتاز کیا گیا تھا۔
شو میں نہ صرف روایتی فیشن شامل تھے بلکہ خواتین کے مختلف قسم کے آرام دہ اور کلاسک لباس کی بھی نمائش کی گئی۔
افطار شروع ہونے سے پہلے ریڈ کارپٹ پر رسکی بوائز کی ایک خاص نمائش دیکھنے کو ملی جو کہ مشہور علاقوں میں کیٹ واک شو کرنے کے لیے مشہور ہے۔ انہوں نے جوش و خروش سے بھرے ماحول میں اپنی مشہور واک کا مظاہرہ کیا۔ یہ پرفارمنس پہلی بار مطریہ افطار کی تقریبات کے دوران دکھائی گئی ہے۔
اس شو کا مقصد اس کے منتظمین کے مطابق ایک مصری فیشن شو پیش کرنا ہے جس میں مصری ورثے سے متاثر لباس کو مصری ماحول میں پیش کیا جائے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ مصر میں عالمی سطح پر مسابقتی فیشن انڈسٹری ہے۔
اس شو کو بہت سے لوگوں نے بھرپور طریقے سے منایا جنہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور اس خیال کا خیرمقدم کیا ۔ اس نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر تنازعےکو بھی جنم دیاپیدا کیا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ مطریہ افطار 2013ء سے منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ تصور ایک سالانہ افطار دسترخوان پر مبنی ہے، جس میں تمام باشندے اپنی اپنی بساط میں اس میں حصہ لیتے ہیں۔یہ مصر میں سب سے طویل عرصے تک چلنے والا رمضان دسترخوان بن گیا ہے، اور اسے صرف 2020 اور 2021 میں COVID-19 کی وبا کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔
دسترخوان لگانے میں تقریباً دو مہینے لگے
علاقے کے متعدد نوجوانوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ کھانے کا اہتمام کرنے میں تقریباً دو ماہ لگے جوانوں کو کئی ٹیموں میں تقسیم کیا گیا، ایک ٹیم نے روزہ داروں کے داخلے کا انتظام کیا اور دوسری ٹیم نے کھانا سیٹوں پر رکھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے کی خواتین نے ہر قسم کے کھانے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس میں باورچیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ایک بڑا باورچی خانہ بنایا گیا تھا جس میں بڑی مقدار میں کھانا تیار کیا جا رہا تھا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ روزے کے افطار جیسے بابرکت ماحول میں فیشن شو اور کیٹ واک کا اہتمام رمضان کے روحانی فلسفے اور تصور کے خلاف ہے۔