ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادی میر پوتین

ٹرمپ اور پوتین کا متوقع رابطہ ... یوکرین کیا کھوئے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آج منگل کے روز اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے ٹیلی فون پر رابطہ متوقع ہے۔ رابطے کا مقصد پوتین کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی قبول کرنے اور تین سال سے جاری جنگ کے زیادہ پائے دار اختتام کی جانب بڑھنے کے لیے قائل کرنا ہے۔
البتہ اس امریکی روسی قربت پر یورپ اور یوکرین کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بہت سے مبصرین کے نزدیک دو بڑی طاقتوں کے سربراہان کے بیچ آج کا متوقع رابطہ، سمجھوتوں کو یقینی بنانے کے حوالے سے ٹرمپ کی صلاحیتوں کا امتحان ہو گا۔ پوتین کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے حوالے سے ٹرمپ کا علانیہ موقف امریکہ کے روایتی اتحادیوں کی تشویش کا باعث ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق بعض ذرائع نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ آج کے رابطے میں اس بات پر توجہ مرکوز ہو گی کہ یوکرین کیا کھوئے گا جیسا کہ 1945 میں منعقد ہونے والی یالٹا کانفرنس میں ہوا تھا۔

یالٹا کانفرنس میں اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل، سوویت یونین کے سربراہ جوزف اسٹالن اور امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے براعظم یورپ کو تقسیم کر دیا تھا۔ مغربی حصہ امریکہ کا اتحادی بن گیا اور مشرقی حصے پر سوویت یونین کا غلبہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں اثر و رسوخ کے علاقوں نے جنم لیا جو سرد جنگ میں معرکہ آرائی کا میدان بن گئے۔

یوکرین کی دست برداری ؟

ٹرمپ نے اتوار کی شام فلوریڈا سے واپسی پر صدارتی طیارے میں صحافیوں سے بات چیت کی۔ انھوں نے بتایا کہ پوتین کے ساتھ مقررہ ان کے ٹیلیفونک رابطے میں بات چیت اس اراضی اور اثاثوں پر مرکوز ہو گی جن کو روس، یوکرین کے ساتھ کسی بھی فائر بندی کی صورت میں برقرار رکھے گا۔

ٹرمپ نے پیر کی شام سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ "حتمی معاہدے کے کئی امور پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم ابھی بہت سے چیزیں باقی ہیں ... ہر ہفتے فریقین کے 2500 فوجی مر رہے ہیں، لہذا اسے فورا ختم کرنا چاہیے"۔

ٹرمپ اس سے قبل عندیہ دے چکے ہیں کہ یوکرین کے اپنی کچھ اراضی اور زیبوریجیا جوہری توانائی اسٹیشن سے دست بردار ہونے کا امکان ہے۔

ادھر یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی ایک سے زیادہ مرتبہ زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ ان کے ملک کی خود مختاری پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ مزید یہ کہ روس کو وہ اراضی واپس کرنا ہو گی جس پر اس نے قبضہ کر لیا ہے۔ اس میں جزیرہ نما قرم (جس کو روس نے 2014 میں اپنے اندر ضم کر لیا تھا) شامل ہے۔ اس کے علاوہ یوکرین کے مشرق میں چار علاقے ہیں جن پر روسی فوج نے جزوی طور پر 2022 میں قبضہ کر لیا تھا۔

اس سے پہلے ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ یوکرین کے ساتھ معاملہ کرنا روس سے زیادہ دشوار ہے۔ تاہم یوکرین نے 30 روز کے لیے جنگ بندی کی امریکی تجویز پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔

ادھر پوتین کا موقف ہے کہ عارضی جنگ بندی سے یوکرین کو اپنی فوج کی از سر نو صف بندی کا موقع مل جائے گا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں