President Donald Trump speaks at an education event and executive order signing in the East Room of the White House in Washington, Thursday, March 20, 2025. (AP Photo/Ben Curtis)

ٹرمپ: صدارتی فیصلوں میں عدالتی مداخلت صرف افراتفری کا باعث بنے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدلیہ کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں میں رکاوٹ ڈالنے کی اپنی مذمت کی تجدید کی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ "صدر کے فیصلوں میں عدالتی مداخلت صرف افراتفری اور جرائم کا باعث بنے گی۔ کسی جج کو صدر کے فرائض نہیں سنبھالنے چاہئیں۔

جمعرات کو امریکی صدر نے سپریم کورٹ سے، جو امریکہ میں سب سے بڑا عدالتی ادارہ ہے، سے کہا کہ وہ ان وفاقی ججوں کے مسئلے کو حل کریں جنہوں نے 20 جنوری کو وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے ان کے بہت سے فیصلوں پر عمل درآمد میں رکاوٹیں ڈالنے والے فیصلے جاری کیے تھے۔

ٹرمپ نے کل "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ اگر چیف جسٹس رابرٹس اور سپریم کورٹ نے فوری طور پر اس نقصان دہ اور بے مثال مسئلے کو حل نہیں کیا تو ہمارا ملک شدید خطرے میں پڑ جائے گا!۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جج 80 ملین ووٹ حاصل کیے بغیر صدارت کے اختیارات سنبھالنا چاہتے ہیں۔ وہ کوئی خطرہ برداشت کیے بغیر تمام فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے سربراہ مملکت کے خلاف یہ غیر معمولی سرزنش اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے واشنگٹن میں وفاقی جج جیمز بوسبرگ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ اس نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تارکین وطن کی ملک بدری کو 14 دن کے لیے معطل کیا جائے۔ اس قانون کو ٹرمپ انتظامیہ نے آٹھویں صدی کے ایک قانون کی بنیاد پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔

امریکہ میں وفاقی عدلیہ کا تاحیات تقرر صدور کے ذریعے کیا جاتا ہے اور انہیں اس وقت تک ہٹایا نہیں جا سکتا جب تک کہ کانگریس ان پر اعلیٰ جرائم اور بدانتظامی کے لیے مواخذہ نہ کر دیے۔ وفاقی ججوں کو ہٹانا امریکہ میں ایک بہت ہی غیر معمولی معاملہ ہے۔ آخری بار کانگریس نے وفاقی جج کو 2010 میں ہٹایا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں