تراویح

خواتین پر نماز تراویح میں شرکت پر پابندی، مراکش میں امام مسجد نے تنازعہ کھڑا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش میں ایک مسجد کے امام کی جانب سے خواتین کی نماز تراویح پر پابندی کے متنازعے فیصلے پر عوامی حلقوں میں سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

امام مسجد کا ایک ویڈیو کلب سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امام مسجد غصے میں نظر آئے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں خواتین سے کہا گیا کہ وہ دوبارہ مسجد میں نہ آئیں "کیونکہ وہ نمازیوں کو پریشان کر رہی ہیں"۔

امام مسجد نے زور دیا کہ مسجد کا خواتین کا ونگ "مزید اطلاع تک" بند رہے گا۔عورت کے لیے مسجد میں نماز ادا کرنے سے گھر میں نماز ادا کرنا بہتر ہے"۔

انہوں نے خواتین سے مطالبہ کیا کہ "مسجدوں میں افراتفری پھیلائے بغیر رمضان کے بقیہ مہینے سے پرسکون اور گھرمیں عبادت سے فائدہ اٹھائیں"۔

"مسجد میں گپ شپ اور نامناسب گفتگو"

امام مسجد نے کہا کہ کچھ خواتین نے "مسجد کے اندر گپ شپ کی اور نامناسب گفتگو کا تبادلہ کیا۔ان میں سے کئی چھوٹے بچوں کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئیں، جنہوں نے شور مچایا اور نمازیوں کی عبادت میں خلل پڑا، اس کی وجہ سے انہیں یہ عارضی فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔

مسجد کے پیش امام کی جانب سے خواتین کی بہ جماعت نماز تراویح میں شرکت پر پابندی کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے رد عمل سامنے آیا ہے۔ بعض صارفین نے امام مسجد کے فیصلے اور موقف کا دفاع کیا۔ ایک محمد الدائم نے کہا کہ امام کا فیصلہ درست ہے۔ انہوں نے لکھا "اس نے سب سے اچھا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ مساجد کو خواتین کے جمع ہونے اور بچوں کے بھاگنے، چیخنے اور ہنسنے کی جگہ نہیں بنایا جانا چاہیے"۔

سماجی کارکن فاطمہ نفیس نے امام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اسے ایسا کرنے کا پورا حق ہے۔ کچھ خواتین اپنے بچوں کو مسجد میں لاتی ہیں اور وہ بہت شور مچانے کے علاوہ سیڑھیوں سے اوپر اور نیچے بھاگتے ہیں۔ اس سے دوسرے لوگوں کی عبادت اور نماز میں خلل پڑتا ہے‘‘۔

بعض صارفین نے امام مسجد کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں خواتین کے حصے کی بندش اور انہیں امتیازی اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے نماز پڑھنے سے روکنے کے متراف قرار دیا۔۔ کارکن سامعہ مہدیہ نے لکھاکہ "یہ درست ہے کہ ایسی خواتین ہیں جو حاضری کے آداب اور جگہ کے تقدس کا احترام نہیں کرتی ہیں، لیکن اس سے امام کو یہ حق نہیں ملتا کہ وہ خواتین کو نماز پڑھنے سے روکے، کیونکہ خدا کا گھر ذاتی ملکیت نہیں ہے"۔

ایک ہفتہ قبل ایک وائرل ویڈیو میں مراکش کے شہر تانگیر کی ایک مسجد کے اندر خواتین نمازیوں کے درمیان لڑائی کے واقعے کے سامنے آنے کے بعد عوامی حلقوم میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں