Brides take wedding photos on a beach in Qingdao in eastern China's Shandong province on Friday, April 19, 2024. AP PhotoNg Han Guan
چین میں زیادہ مہر کے بغیر آسان شادی کے لیے نئے اقدامات کا اعلان
نیا اقدام نئے جوڑوں کو شادی کو پورے چین میں رجسٹر کرنے کی اجازت دیتا ہے
ہفتے کے روز چین نے شادی کی رجسٹریشن کو آسان بنانے اور جوڑوں پر مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کردیا۔ یہ اقدامات حکام کی جانب سے شرح پیدائش کو بڑھانے کی کوشش میں کیے گئے۔ چین میں بچے پیدا کرنے سے پہلے شادی ایک لازمی مرحلہ ہے کیونکہ اس کے فریم ورک سے باہر کی پیدائش کو قبول نہیں کیا جاتا۔ ایسی پیدائش پر ایک ہی طرح کی شناخت اور تحفظ بھی نہیں ملتا ہے۔
چین میں گزشتہ سال شادیوں کی تعداد میں 20.5 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ 2024 مسلسل تیسرا سال تھا جس میں آبادی میں کمی دیکھنے میں آئی۔ اس کے مضمرات معاشی ترقی اور پنشن کی مالی امداد پر پڑے ہیں۔ حکام نے آبادی کو بڑھانے کے لیے اس سے قبل بھی کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں شادی کرنے والوں یا بچے پیدا کرنے والوں کو مالی مدد فراہم کرنا اور بچوں کی دیکھ بھال کی مزید سہولیات قائم کرنے کا وعدہ شامل ہے۔
تازہ ترین اقدام نئے جوڑوں کو پورے چین میں اپنی شادی رجسٹر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ سرکاری چینل CCTV نے اس حوالے سے ہفتے کے روز ایک سرکاری دستاویز کی بنیاد پر رپورٹ جاری کی۔ اس سے قبل میاں بیوی کو اپنی شادی سول رجسٹری میں رجسٹر کرانی پڑتی تھی جہاں دولہا یا دلہن بنیادی طور پر سول رجسٹری میں رجسٹرڈ ہوتے تھے۔
مثال کے طور پر اس سے قبل اگر میاں بیوی پیشہ ورانہ وجوہات کی بنا پر بیجنگ (شمالی چین) میں رہتے ہیں لیکن بیوی کا تعلق بنیادی طور پر کینٹن (جنوبی) سے ہے اور شوہر کا تعلق شنگھائی (مشرق) سے ہے تو انہیں اپنی رہائش کی جگہ پر نہیں بلکہ ان دو شہروں میں سے کسی ایک میں طریقہ کار مکمل کرنا ہونا تھا۔ چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز وضاحت کی کہ عام لوگوں کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کرنے اور پائلٹ پراجیکٹس کی کامیابی کی بنیاد پر پورے چین میں شادیوں کی رجسٹریشن کا کام شروع ہو جائے گا۔
شہری امور کی وزارت نے وعدہ کیا کہ کچھ نقصان دہ رسوم و رواج جیسے کہ مبالغہ آمیز مہر کی رقم اور بہت زیادہ مہنگی شادی کی تقریبات کے انعقاد کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ مہر وہ رقم ہے جو دولہا کا خاندان عام طور پر دلہن کو دیتا ہے اور اسے اکثر بیوی کے خاندان کے احترام اور نوجوان جوڑے کے آغاز میں شراکت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم کچھ معاملات میں یہ رقم بہت زیادہ ہوتی ہے جو دولہا کے خاندان پر مالی دباؤ ڈالتی ہے اور سماجی عدم مساوات کو گہرا کرنے کا باعث بنتی ہے۔
بہت سے چینی نوجوان شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس ہچکچاہٹ کی سب سے نمایاں وجوہات میں سے ایک اپارٹمنٹ خریدنے کے لیے مالی صلاحیتوں کا فقدان بھی ہے جو اکثر کسی بھی شادی کے لیے لازمی شرط ہوتا ہے۔ اسی طرح نرسری فیس اور تعلیم کے زیادہ اخراجات بھی بچوں کی پیدائش میں کمی کے اسباب میں شامل ہیں۔