مراکشی خاتون

روایتی مٹھائیاں اور لباس ... تہواروں پر مراکشی خواتین کے سر کا "تاج"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش کی خواتین ہر موقع اور تہوار پر اپنی روایات کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے گھروں میں خوشی اور مسرت کے لمحات کا دور دورہ ہوتا ہے تا کہ عید الفطر کو روحانی، سماجی اور ثقافتی طور سے خوش آمدید کہا جا سکے۔

مرکاشی خواتین مذہبی تہواروں کے موقع پر روایتی ورثے سے دست بردار نہیں ہوتی ہیں، خواہ وہ لباس ہو یا پھر پکوان !

خواتین اپنے دستر خوانوں کو مٹھائیوں سے زینت بخشتی ہیں اور اپنے اور اپنے بچوں کے لیے نئے لباس کا اہتمام کرتی ہیں۔

مراکشی گھرانوں نے طویل عرصے سے عید الفطر کے موقع پر روایتی لباس کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہاں عید سے قبل آخری دنوں کے پورے عرصے میں تجارتی مراکز اور بازاروں میں غیر معمولی چہل پہل نظر آتی ہے۔

مراکش کے لوگوں کے لیے روایتی لباس ... ان کی شان و شوکت اور آباؤ اجداد سے ورثے میں ملنے والی دولت کی علامت ہے جو انھیں تہواروں اور دیگر ومواقع پر امتیاز بخشتی ہے۔ اس لباس کی مانگ مراکش کے ہر شہر میں موجود درزیوں اور ڈیزائنروں کے پاس ہوتی ہے۔

عید الفطر کے موقع پر تمام شہروں میں قفطان اور جلباب کی مانگ بڑھ جاتی ہے، تاہم جنوبی مراکش کے شہروں کی خواتین "ملحفة" اور "دراعة" پہن کر نمایاں نظر آتی ہیں۔ یہ ایک تنوع کی عکاسی کرتا ہے جو ملک کے شمال سے جنوب تک ملبوسات کے حوالے سے پایا جاتا ہے۔

مراکش کے لوگ (مرد اور خواتین) چاند رات کو مراکشی حمام جانے کے عادی ہیں۔ اس لیے کہ یہ برسوں سے عید کی خوشی اور استقبال کا ایک روایتی انداز ہے۔ اسی طرح مراکشی لوگ ایک ماہ کی عبادت اور پکوان کے اہتمام کے بعد زینت اختیار کرنے کے لیے بعد بیوٹی پارلروں اور بیوٹی سیلونوں کا رخ کرتے ہیں۔

عید الفطر کے موقع پر مراکش میں دسترخوان اور کھانے کی میزیں روایتی مٹھائیوں سے سجی ہوتی ہیں۔ ان کی حیثیت تقریبات میں دلہن کے جیسی ہوتی ہے اور کوئی گھر ان سے خالی نہیں رہتا۔ ان مٹھائیوں میں "كعب غزال" ، "الفقاص"، "وريشبوندا" اور دیگر اقسام شامل ہیں، جو مراکشی چائے کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں