غزہ میں ایک بچہ زمین پربکھری ہوئی خوراک جمع کر رہا ہے (آرکائیو - اے ایف پی)

غزہ میں روٹی ندارد ، غذائی ذخیرے سے متعلق اسرائیلی دعویٰ "بے ہودہ" قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی جانب سے جنگ کی طرف لوٹنے اور غزہ کی پٹی کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے ساتھ ہی تباہ حال علاقے کو ایک بار پھر غذائی مواد بالخصوص آٹے کی قلت کے بڑے بحران کا سامنا ہے۔

بیکری مالکان کی ایسوسی ایشن کے مطابق گذشتہ روز غزہ کی پٹی کے وسطی علاقوں کی تمام بیکریوں نے کام روک دیا جب کہ آج بدھ کے روز شمالی علاقوں کی تمام بیکریاں کام روک دیں گی۔ اس کی وجہ ایندھن، گیس اور آٹے کا ختم ہو جانا ہے۔ اس طرح اہل غزہ کے بیچ قحط کے پھیلنے کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل کا یہ کہنا کہ غزہ میں غذائی ذخیرہ طویل عرصے کے لیے کافی ہے، یہ ایک بے ہودہ دعویٰ ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوژارک نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ "اہم انسانی گزر گاہوں کے راستے آنے والی اقوام متحدہ کی ترسیل کے خاتمے پر ہیں"۔

انھوں نے مزید کہا کہ "عالمی خوراک پروگرام نے اپنی بیکریاں تفریح کے لیے بند نہیں کی ہیں ... اگر آٹا نہیں ہو گا اور پکانے کے لیے گیس نہیں ہو گی تو پھر بیکریاں کھلی رکھنا ممکن نہیں ہو گا"۔

عالمی خوراک پروگرام نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں اس کے سہارے چلنے والی تمام 25 بیکریاں ایندھن اور آٹے کی قلت کے سبب بند کر دی گئی ہیں۔

غزہ کا منظر

اس سے قبل گذشتہ روز فلسطینی امور سے متعلق اسرائیلی کمیٹی نے کہا تھا کہ "اگر حماس شہریوں کو حاصل کرنے کی اجازت دے تو غزہ کی پٹی میں طویل عرصے تک کافی ہونے والی خوراک موجود ہے"۔

سات اکتوبر 2023 غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے خوراک کی تقسیم کے مراکز کے سامنے طویل قطاریں اور امدادی ٹرکوں کی جانب ہجوم کا لپکنا ، بیس لاکھ کی آبادی والی غزہ کی پٹی میں معمول کا منظر بن گیا۔

ادھر اقوام متحدہ کی ایجنسیاں ایک سے زیادہ بار خبردار کر چکی ہیں کہ غزہ کی پٹی میں کئی علاقوں میں قحط کا خطرہ منڈلانا شروع ہو گیا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں