female Driver
امریکہ میں 14 فیصد ڈرائیوروں کے گاڑی چلاتے ہوئے سو جانے کا انکشاف
سروے میں ان اوقات کی نشاندہی کی گئی جب ڈرائیور سب سے زیادہ تھکے ہونے کے دوران حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں
امریکہ میں ایک نئے سروے سے پتہ چلا ہے کہ 14 فیصد امریکیوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ گاڑی چلاتے ہوئے سو جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سڑکیں خطرناک جگہ بن جاتی ہیں۔ یہ تشویشناک اعدادوشمار ایری انشورنس کی طرف سے کرائے گئے ایک سروے کے ذریعے مرتب کیے گئے ہیں جو 2020 سے گاڑی میں سوتے ہوئے ڈرائیوروں کی تعداد میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کر رہا ہے۔
غنودگی کے دوران ڈرائیونگ کرنے کے اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے سروے میں نیند کی کمی کے خطرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ڈرائیونگ سے پہلے نیند کو بہتر بنانے کے لیے عملی حل پیش کیا گیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ڈرائیور گاڑی چلاتے ہوئے سو نہ جائیں۔ سروے میں امریکیوں کی بڑھتی ہوئی نیند کی کمی کے پیچھے بنیادی عوامل کو ظاہر کیا گیا ہے۔
سروے کے نتائج رواں ماہ کے آغاز میں شائع کیے گئے تھے۔ اس مہینے کو "ڈسٹریکٹڈ ڈرائیونگ سے نمٹنے کا قومی مہینہ" سمجھا جاتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز تجویز کرتے ہیں کہ بالغوں کو روزانہ اوسطاً سات گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہے تاہم سروے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکیوں کی ایک بڑی فیصد اس فیصد تک نہیں پہنچ پاتی ہے۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نصف سے زیادہ شرکاء سات گھنٹے سے کم سوتے تھے۔ ان میں سے تقریباً 11 فیصد روزانہ چار گھنٹے یا اس سے بھی کم سوتے تھے۔ شرکا کے سب سے بڑے 43 فیصد حصے نے بتایا کہ وہ اوسطاً پانچ سے چھ گھنٹے سوتے ہیں۔ نیند کی کمی غور و فکر میں کمی، چوکنے پن میں کمی، نیند میں اضافے اور دیگر مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
نیند میں اضافہ بھی توجہ مرکوز کرنے، واضح طور پر سوچنے، تیزی سے رد عمل ظاہر کرنے اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ سروے میں ان اوقات کی نشاندہی کی گئی جب ڈرائیور سب سے زیادہ تھکے ہوئے ہوتے اور حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ امریکی رات کے آخری پہر میں گاڑی چلاتے ہوئے تھکاوٹ کی بلند ترین سطح محسوس کرتے ہیں۔ سروے کے 42 فیصد شرکا نے بتایا کہ یہ وقت 10 بجے سے صبح 3 بجے کے درمیان ہے۔ دوسرا سب سے خطرناک وقت صبح کے ابتدائی اوقات ہیں اور یہ صبح 3 سے 10 بجے کے درمیان کے اوقات ہیں۔