Your browser doesn’t support HTML5 video

سعودی عرب کے ساتھ ایک جامع تعاون کے سمجھوتے کی تیاری کر رہے ہیں : امریکی وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ توانائی کے شعبے میں سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی شراکت کے نزدیک بڑھ رہا ہے، جو مملکت میں تجارتی جوہری توانائی کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔ انھوں نے یہ باتALArabiya news کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔

رائٹ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ آئندہ ہفتوں کے دوران میں توانائی کے شعبے میں جامع تعاون کے سمجھوتے پر دستخط کی تیاری کر رہا ہے۔ غالب گمان ہے کہ اس کے چند ماہ بعد جوہری توانائی کے لیے متعین ایک اور سمجھوتا طے پائے گا۔

امریکی وزیر توانائی کا حالیہ دورہ ریاض ، خلیج کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ رائٹ کے بیانات کے وقت اور لہجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں امریکی توانائی کی سفارت کاری کو دانستہ طور پر ایک نئی سمت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جوہری تعاون کے حوالے سے رائٹ نے العربیہ نیوز سے گفتگو میں توانائی کے تمام شعبوں میں بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ "ہم نے تیل، قدرتی گیس، شمسی توانائی، توانائی کے ذخیرے، پانی کی ترسیل اور صنعتی شعبے سے رابطے پر گفتگو کی ہے"۔

مستقبل میں اقتصادی نمو کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش

امریکی وزیر توانائی نے قیمتوں کی حالیہ کمی کی روشنی میں تیل کی منڈی کی حرکی کیفیات پر بھی بات کی۔ انھوں نے واضح کیا کہ " تیل کی قیمتیں اسی انداز میں ہیں ... لوگ منڈی میں مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میرے خیال میں آپ اس کا عکس تیل کی قیمتوں میں دیکھ سکتے ہیں، اور شاید یہ مستقبل میں اقتصادی ترقی کے حوالے سے مبالغہ آرائی پر مبنی تشویش ہو۔"

امریکی وزیر نے کہا کہ "میں اقتصادی نمو سے متعلق صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کے حوالے سے نہایت پر امید ہوں، نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا میں ... صدر ٹرمپ ایک ماہر مذاکرات کار ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے ان کی پہلی مدت صدارت میں یہ دیکھا لیا ہے"۔

سعودی عرب کے لیے "نہایت تاب ناک" توقعات

امریکی وزیر توانائی نے کہا کہ "میرے خیال میں آئندہ چند برسوں میں عالمی طلب لوگوں کی توقع سے زیادہ بڑھے گی۔ اس کی وجہ بہتر اقتصادی معاہدے، دنیا بھر میں سرمایہ کاری کا زیادہ بہاؤ اور اقتصادی ترقی میں بہتری ہو گی۔ لیکن ہاں، میں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب کے لیے پیش گوئیاں بہت روشن ہیں"۔ رائٹ نے العربیہ نیوز سے گفتگو کے دوران سابق امریکی حکومت کی توانائی پالیسیوں پر تنقید کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کی، اور کہا کہ "انہوں نے غلط اندازہ لگایا، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، انہوں نے ہائیڈروکاربنز کی پیداوار روکنے کے لیے بقول ان کے، ایک جامع حکومتی طریقہ اختیار کیا"۔

ہماری توجہ توانائی میں مزید اضافے پر ہے

امریکی وزیر کا کہنا تھا کہ "موجودہ توانائی کے نظام کو روکا یا اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جا سکتی۔ نئی توانائی کی ٹیکنالوجیز کو نشونما پانے دیں، ترقی کرنے دیں، اور منڈی میں مقابلہ کرنے دیں۔ دنیا کو کم توانائی نہیں، بلکہ بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے توانائی کے استعمال میں کمی پر زور دیا، جب کہ ہم زیادہ توانائی شامل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں"۔

توقع ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ آئندہ ماہ سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ اس کا مقصد خلیجی ممالک کے ساتھ تزویراتی ہم آہنگی اور اقتصادی شراکت کو مزید گہرا بنانا ہے۔

رائٹ کے مطابق "امریکہ کی شراکت داری واپس آ گئی ہے ... اور یہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ ہم نہ تو آپ کی صنعت بند کر رہے ہیں اور نہ ہی اس وجہ سے دوری اختیار کر رہے ہیں کہ ہمیں لگتا ہے آپ عالمی مفادات کے خلاف ہیں۔ ہمارا مفاد یہ ہے کہ امریکہ ایک مضبوط اتحادی ہو۔ امریکی قیادت ایک مضبوط اقتصادی ترقی کو جنم دے گی، جو بدلے میں توانائی کی مانگ میں زبردست اضافہ کرے گی ... اور یہ توانائی کے منصوبوں کے لیے ایک شان دار بات ہے"۔

ٹرمپ "اوپیک" کے ساتھ کسی تنازع میں نہیں پڑیں گے

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی اہمیت کم کرتے ہوئے "اوپیک" کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ٹکراؤ کو خارج از امکان قرار دیا ہے، جب کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں خام تیل کی مارکیٹوں کے گرنے کے اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

اپنی گفتگو میں رائٹ نے زور دے کر کہا کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی، جو مختصر وقت کے لیے 60 ڈالر فی بیرل سے نیچے چلی گئی تھی، خاص طور پر جب ٹرمپ انتظامیہ نے نئے تجارتی ٹیرف عائد کیے، یہ دراصل کسی دیرپا کمزوری کی علامت نہیں بلکہ "عالمی اقتصادی نمو سے متعلق غیر ضروری مایوسی" کا نتیجہ ہے۔

واضح رہے کہ جب سے ٹرمپ انتظامیہ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ تیز کی ہے، اور غیر ملکی گاڑیوں، اسٹیل اور عام اشیاء پر جامع ٹیرف عائد کیے ہیں، تب سے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10 ڈالر فی بیرل تک کمی آ چکی ہے۔ اس صورت حال نے سرمایہ کاروں میں خدشات پیدا کیے اور تیل کی طلب کے بارے میں اندازے متاثر ہوئے۔

رائٹ نے ان ٹیرف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ "امریکہ میں صنعت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ایک وسیع تر مہم" کا حصہ ہے۔

رائٹ نے اس خیال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا کہ صدر ٹرمپ "اوپیک" کو ہدف بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "مجھے بالکل بھی نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہو گا ... میرا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی بنیادی طور پر وہی چاہتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں ... دنیا کے 7 ارب افراد میں سے کچھ کو میرے اور آپ کے جیسا معیارِ زندگی دینے کا واحد راستہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں توانائی کی مقدار میں زبردست اضافہ کیا جائے۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں