ٹرمپ اور چینی صدر

واشنگٹن کے ساتھ تجارتی سودے ہمارے کھاتے میں نہ کیے جائیں ... چین کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس طرح کی خبر گردش میں ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ دوسرے ممالک پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ چین کے ساتھ تجارت محدود کر دیں، جس کے بدلے میں انھیں امریکی کسٹم ٹیرف میں چھوٹ مل جائے گی۔ دوسری جانب بیجنگ حکومت نے اس پالیسی کو مسترد کر دیا ہے۔

چین کی وزارتِ تجارت نے پیر کے روز واضح کیا کہ وہ ان تمام فریقوں کا احترام کرتی ہے جو امریکہ کے ساتھ اپنے اقتصادی و تجارتی تنازعات کو برابری کی بنیاد پر بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ایسی کسی بھی ڈیل کی سخت مخالفت کرے گی جو چین کے مفادات پر ضرب لگائے۔

وزارت کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر کوئی ملک ایسی ڈیل کرتا ہے جس کا مقصد چین کے ساتھ تجارتی روابط محدود کرنا ہو، تو چین اس کے خلاف مؤثر اور متبادل اقدامات کرے گا۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ "امریکہ نے اپنے تمام تجارتی شراکت داروں پر کسٹم ٹیرف کے نام پر یک طرفہ طور پر دباؤ ڈالا ہے، اور انہیں جبراً ایسے مذاکرات میں گھسیٹا ہے جنہیں وہ 'باہمی ٹیرف مذاکرات' کا نام دے رہے ہیں"۔

چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے زور دیا کہ چین اپنے قانونی حقوق اور مفادات کے دفاع کے لیے پرعزم اور مکمل طور پر اہل ہے، وہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اتحاد و تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی تیار ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

یہ سخت موقف ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسے ممالک پر مالی پابندیاں عائد کرنے کا سوچ رہی ہے جو امریکہ سے کسٹم ٹیرف میں رعایت کے بدلے چین کے ساتھ تجارتی روابط کم نہیں کریں گے۔ یہ معلومات بلومبرگ نے با خبر ذرائع کے حوالے سے دیں۔

یاد رہے کہ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے رواں ماہ کے آغاز میں بتایا تھا کہ تقریباً 50 ممالک نے امریکہ سے رابطہ کر کے اضافی کسٹم ٹیرف پر بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے 2 اپریل کو دنیا بھر کے دسیوں ممالک پر عائد تاریخی کسٹم ٹیرف کا نفاذ روک دیا تھا، البتہ چین پر عائد ٹیرف برقرار رکھا تھا، جو کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں