نو مارچ 2025 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں ماہِ رمضان کے دوران فلسطینی بچے خیراتی کچن سے تیارشدہ کھانا لے جا رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)

غزہ میں امداد کی بندش: عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف دلائل

امداد پر پابندی حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دی ہیگ میں پیر کو شروع ہونے والی سماعت کے ایک ہفتے کے دوران اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے الزامات کا سامنا کرنا ہو گا

جب درجنوں ممالک بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں دلائل پیش کریں گے کہ اس نے غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کی اجازت نہیں دی۔

دو مارچ کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے 2.3 ملین باشندوں کے لیے امداد مکمل طور پر منقطع کر دی تھی جبکہ سال کے آغاز میں جنگ بندی کے دوران ذخیرہ شدہ خوراک اب ختم ہو رہی ہے۔

دسمبر میں اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ عدالت کو یہ کام تفویض کیا گیا تھا کہ ریاستیں اور بین الاقوامی گروپ بشمول اقوامِ متحدہ فلسطینیوں کو جو امداد فراہم کرتے ہیں، اس کے لیے اسرائیل کی ذمہ داریوں کے بارے میں ایک مشاورتی رائے قائم کی جائے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک غزہ میں سامان اور رسد کے داخلے کی اجازت نہیں دے گا جب تک حماس باقی تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہ کر دے۔

اسرائیل نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے کسی بھی امداد کو غزہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس کے بعد جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے گذشتہ ہفتے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی کی اجازت دے کر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا کہ وہ محصور فلسطینی سرزمین میں خوراک اور ادویات کے داخلے کی اجازت دیں۔

اسرائیل بارہا حماس پر انسانی امداد چھین لینے کا الزام لگاتا رہا ہے۔ حماس نے ان الزامات کی تردید کی اور اسرائیل کو قلت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

دسمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 193 میں سے 137 ممالک کی منظور کردہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسرائیل فلسطینی آبادی سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کی تعمیل کرے۔ قرارداد میں غزہ کی سنگین انسانی صورتِ حال پر "شدید تشویش" کا اظہار کیا گیا تھا۔

اسرائیل، امریکہ اور 10 دیگر ممالک نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 22 ممالک نے ووٹ نہیں دیا۔

پیر کو دی ہیگ میں عدالت سے خطاب کرنے والے اولین لوگوں میں فلسطینی علاقوں کے نمائندگان شامل ہوں گے۔

اسرائیل ان تقریباً 40 ممالک میں شامل نہیں ہے جو جمعے تک ہونے والی پانچ روزہ سماعتوں کے دوران بات کریں گے۔ امریکہ بدھ کو اپنی رائے کا اظہار کرے گا۔

عالمی عدالت کی مشاورتی آراء قانونی اور سیاسی وزن کی حامل ہوتی ہے حالانکہ یہ پابند نہیں ہوتیں اور عدالت کے پاس اپنے احکامات کے نفاذ کے اختیارات نہیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ غزہ اور مغربی کنارے کو اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقہ تصور کرتا ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت کسی علاقے پر قابض طاقت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ضرورت مند لوگوں کے لیے امدادی پروگراموں میں سہولت فراہم کرے اور خوراک، طبی نگہداشت، حفظانِ صحت اور صحتِ عامہ کے معیارات کو یقینی بنائے۔

سماعتوں کے بعد عالمی عدالت کو اپنی رائے قائم کرنے میں کئی ماہ لگیں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں