امریکی سکریٹری خارجہ مارکو روبیو چار اپریل 2025 کو برسلز میں نیٹو ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (رائٹرز)

ایران کو یورینیم کی افزودگی سے 'دستبردار' ہونا چاہیے: روبیو

روبیو کے تبصرے دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کی نشاندہی کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری سے "دستبردار" ہونا ہے اور اسے امریکی معائنہ کاروں کو اپنی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایران-امریکہ جوہری مذاکرات کا ایک دور ملتوی ہونے پر سامنے آیا۔

ایران کے جوہری پروگرام پر طویل عرصے سے جاری تنازعہ حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں جو تقسیم باقی ہے، روبیو کے تبصرے اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران پر بمباری کرنے کی دھمکی دی ہے۔

روبیو نے فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں کہا، "انہیں دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے سے، (یمن میں) حوثیوں کی مدد کرنے، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی ترقی سے دستبردار ہونا ہو گا جن کا ایٹمی ہتھیار رکھنے کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں اور افزودگی سے دستبردار ہونا ہو گا۔"

ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ اپنا میزائل پروگرام یا یورینیم کی افزودگی ترک نہیں کرے گا۔ یہ عمل جوہری پاور پلانٹس کے لیے ایندھن بنانے میں استعمال ہوتا ہے لیکن جوہری وار ہیڈ کے لیے مواد بھی بنا سکتا ہے۔

جمعرات کو ایک سینئر ایرانی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا، ہفتے کے روز روم میں ہونے والے مذاکرات کا چوتھا دور ملتوی ہو گیا ہے اور ایک نئی تاریخ کا تعین "امریکی نکتۂ نظر پر منحصر ہے۔"

روبیو نے کہا کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے لیے افزودہ یورینیم درآمد کرنا چاہیے نہ کہ اسے کسی بھی سطح تک افزودہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے پاس 3.67 فیصد تک افزودگی کی صلاحیت ہے تو اسے 20 فیصد تک، پھر 60 فیصد اور پھر 80 اور 90 فیصد پہنچنے میں چند ہفتے لگتے ہیں جو آپ کو ہتھیار بنانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ اسے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی شرائط کے تحت یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل ہے۔ یہ ایٹم بم بنانے کی خواہش کی تردید کرتا ہے۔

روبیو نے یہ بھی کہا، ایران کو یہ قبول کرنا ہو گا کہ امریکی معائنے کے کسی بھی نظام میں شامل ہو سکتے ہیں اور معائنہ کاروں کو فوجی سمیت تمام سہولیات تک رسائی کی ضرورت ہو گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں