ترامب وإيران (العربية.نت)
ایران -امریکہ مذاکرات کے فریق بشمول سلطنت عمان واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی جلد بحالی کی کوشش کررہے ہیں۔ دوسری جانب مبصرین نے اس تاخیر کو امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات کا نیا دور منعقد کرنے میں "ناکامی" سے تعبیر کیا ہے۔
تاہم مبصرین کے مطابق، گذشتہ دو دنوں میں ایران کی اکثر "مثبت" بیان بازی اور "سخت گیر" امریکی بیان بازی میں بہت فرق ہے۔ واشنگٹن کے پاس ایران پر اپنا موقف اور دباؤ بڑھانے کی وجوہات ہیں۔
اسمگل شدہ کھیپ کو روکنا
العربیہ اور الحدث نے ایک سے زیادہ امریکی عہدیداروں سے پوچھا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران کو دھمکی آمیز پیغام کیوں بھیجا۔ حالانکہ امریکہ ایران کی حوثیوں کی حمایت سے آگاہ ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ "امریکی فوج نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کو اسمگل کی گئی ایک کھیپ کو روکا ہے، تاہم اس میں زیادہ تفصیلات نہیں ہیں، لیکن یہ کھیپ ایک خطرناک سامان ہو سکتی ہے جسے ایران نے حوثیوں کے لیے بھیجا تھا‘‘۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
العربیہ اور الحدث کے ذرائع کے مطابق امریکی فوج اس وقت اس کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ تاہم امریکیوں نے بارہا کہا ہے کہ ایران نے حوثیوں کی حمایت اور انہیں امداد بھیجنا، خاص طور پر فوجی مدد کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔امریکہ کو اس بات پر سخت غصہ ہے کہ ایران یمن کے حوثیوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی انٹیلی جنس سپورٹ
گذشتہ چند گھنٹوں میں العربیہ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے ایک اور اہلکار نے تصدیق کی کہ "خلیج عدن اور آبنائے باب المندب کے پانیوں میں ایرانی بحری جہاز اب بھی حوثیوں کی مدد کے لیے سرگرم ہیں اور انہیں کوئی بھی نقل و حرکت بھیج رہے ہیں۔تاہم ان سے کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہے۔ حوثیوں کے حملے ناکام ہیں۔
ایک امریکی اہلکار نے العربیہ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ جو چیز خاص طور پر سینٹرل کمانڈ اور محکمہ دفاع کے اہلکاروں میں تشویش کا باعث ہے وہ یہ ہے کہ ایرانی حوثیوں کو معلومات اور تربیت فراہم کر رہے ہیں، جس سے انہیں گزشتہ چند ہفتوں میں امریکی فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملی ہے۔
انتظامیہ کا موقف سخت
بیان بازی کے بیک وقت بڑھنے کی اور بھی وجوہات ہیں۔ بہ ظاہر وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع کے درمیان ہم آہنگی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ٹویٹ کیا کہ جو بھی ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات خریدے گا اس پر پابندیاں عائد کریں گے۔
امریکی ترجمانوں کے مطابق اس بے رخی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ اور ان کے وزیر دفاع ایرانیوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ امریکہ مضبوط ہے اور واقعی ایران کو روکنا چاہتا ہے۔ اسے جلد از جلد کسی معاہدے تک پہنچنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ایرانی مذاکرات کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر میں مخمصے کا شکار نظر آتے ہیں اور امریکی طاقت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ امریکیوں کو شبہ ہے کہ ایران انہیں تھکا دینا چاہتا ہے اور خطے میں امریکی فوجی طاقت کا حجم کم ہونے تک نتائج تک پہنچنے کو ملتوی کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ نتائج چاہتے ہیں
دفاعی حکام مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ امریکہ اکثر مختصر نوٹس پر خاص طور پر جب B-52 جیسے تزویراتی طیاروں پر انحصار کرتے ہوئے خطے میں افواج بھیجنے کے قابل ہے۔
لیکن امریکی صدر کے منصوبے مختلف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایرانی ایک مختصر مدت کے اندر ایک فریم ورک معاہدے تک پہنچ جائیں، شاید اس مہینے کے وسط میں۔ وہ ایک طرف اقتصادی پابندیاں لگانے کی بات کر رہے ہیں اور و دوسری طرف دنیا اگلے موسم خزاں تک ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کی تیاری کر رہی ہے۔
ایران پر پابندیوں کے ایک ماہر نےکہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی ایک رپورٹ جاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس میں جوہری معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے میں ایران کی ناکامی کی تفصیل دی گئی ہے۔ اس سے یورپی ممالک کو 2015 کے معاہدے کے بعد معطل کی گئی پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے کا اشارہ ملے گا۔
امریکی دارالحکومت میں ایران کے بارے میں بات کرتے وقت یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ امریکی صدر عجلت میں ہیں۔ ایرانی جوہری مسئلے کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش میں ایران کو پابندیوں اور ہتھیاروں کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جب کہ انتظار ہے کہ مستقبل قریب میں ایران کیا کرے گا۔