دونوں ملکوں کے اقدامات سے بین الاقوامی شپنگ انڈسٹری بھی متاثر ہو گی

پاکستان اور بھارت کے پرچم بردار بحری جہازوں کا ایک دوسرے کی بندرگاہوں میں داخلہ بند

پاکستان کی وزارت بحری امور کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ حالیہ بحری صورت حال کے پیشِ نظر، پاکستان اپنی بحری خودمختاری، معاشی مفاد اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوری طور پر یہ اقدامات کر رہا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے بھارتی پرچم بردار بحری جہازوں کا پاکستانی بندرگاہوں پر داخلہ فوری طور پر بند کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب بھارت نے پاکستان کی بین الاقوامی تجارت پر وار کرتے ہوئے پاکستانی کنٹینرز لے کر بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے تیسرے ملکوں کے پرچم بردار بحری جہازوں کو بھی اپنی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے سے روک دیا۔

پاکستان کی وزارت بحری امور کے پورٹس اینڈ شپنگ ونگ کی جانب سے ہفتے کو جاری ہونے والے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہمسایہ ملک کے ساتھ حالیہ بحری صورت حال کے پیشِ نظر، پاکستان اپنی بحری خودمختاری، معاشی مفاد اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوری طور پر اقدامات کر رہا ہے۔

FB_IMG_1746341285446

بیان کے مطابق ان اقدامات کے تحت ’بھارتی پرچم بردار جہازوں کو کسی بھی پاکستانی بندرگاہ پر آنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ پاکستانی پرچم بردار جہاز کسی بھارتی بندرگاہ پر نہیں جائیں گے۔

’کسی بھی قسم کے استثنیٰ یا نرمی کا جائزہ ہر کیس کی بنیاد پر لیا جائے گا اور فیصلہ کیا جائے گا۔‘

دوسری جانب بھارت نے پاکستان کی بین الاقوامی تجارت پر وار کرتے ہوئے پاکستانی کنٹینرز لے کر بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے تیسرے ملکوں کے پرچم بردار بحری جہازوں کو بھی بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے سے روک دیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

رپورٹ کے مطابق بھارت نے پاکستان کی ایکسپورٹ کو متاثر کرنے کے لیے نیا ہتھکنڈا اختیار کر لیا، پاکستانی درآمدات پر پابندی اور پرچم بردار بحری جہازوں کے بعد ٹرانزٹ کارگو والے جہازوں کو بھی لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تیسرے ملک کے لیے کارگو لے جانے والی شپنگ کمپنی آئی ای ایکس کے کنٹینرز بردار بحری جہاز کو برتھ فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

ذرائع شپنگ انڈسٹری نے کہا کہ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی کارگو لانے والے کسی جہاز کو بھارت کی بندرگاہ پر برتھ نہیں دی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق بھارتی اقدامات سے خطے کی لاجسٹکس کے علاؤہ بین الاقوامی شپنگ انڈسٹری بھی متاثر ہو گی، پاکستانی کارگو لے جانے والے جہازوں کو خصوصی سروس چلانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسی شپنگ سروسز سے ایکسپورٹ امپورٹ کرنا ہو گی کو بھارت کی بندرگاہ استعمال نہیں کرتے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں