1099314-1345040799
خبر ایجنسی "رائٹرز" کے دو ذرائع نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن نے سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان سویلین ایٹمی تعاون کے مذاکرات میں پیش رفت کے لیے ریاض پر تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی شرط ختم کر دی ہے۔ امریکہ کی جانب سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے دستبرداری کو "بڑا سمجھوتہ" قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ ہفتے سعودی عرب کے دورے سے قبل ہوئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان شہری ایٹمی تعاون ایک وسیع تر سکیورٹی معاہدے کا حصہ ہے جسے واشنگٹن نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے سے مشروط کیا تھا۔ تاہم ریاض نے اس شرط کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات کو تسلیم کرنے کی شرط اس کے فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب سنجیدہ اقدامات اٹھانے پر منحصر ہے۔
تاہم گزشتہ دنوں دونوں ملکوں کی جانب سے تزویراتی تعلقات کی سطح کو بڑھانے کی خواہش کے تناظر میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کی مثال امریکی وزیر توانائی کریس رائٹ کا سعودی عرب کے دورے کے دوران یہ اعلان ہے کہ ان کا ملک ریاض کے ساتھ ایک اہم معاہدے پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو توانائی اور سول ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر توجہ مرکوز کرے گا۔
امریکی اور سعودی وزرائے توانائی کی ملاقات
اسی تناظر میں کریس رائٹ نے کہا ہے کہ متوقع معاہدہ ان کے ملک کی جانب سے مملکت کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت ایک تزویراتی قدم ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس تعاون میں سعودی عرب میں پرامن جوہری توانائی کی صنعت کو مقامی بنانا بھی شامل ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
کریس رائٹ نے العربیہ نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم قریبی مستقبل میں توانائی کے شعبے میں وسیع تر تعاون، شراکت داری اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کریں گے۔ اور یقیناً جوہری توانائی ان شعبوں میں سے ایک ہے۔ جہاں تک سعودی عرب میں تجارتی جوہری ترقی میں شراکت داری کے لیے ایک مخصوص معاہدے تک پہنچنے کا تعلق ہے تو اس میں زیادہ وقت لگے گا، اس میں ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں لگیں گے لیکن ہم وہاں پہنچ جائیں گے۔ میرا خیال ہے یہ ممکن ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اسی اثناء میں سعودی عرب پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی اور اس کے تابکاری کے استعمال سے فائدہ اٹھانے کی جانب گامزن ہے ۔ سعودی عرب اپنے تمام اجزاء کے ساتھ اپنے قومی جوہری توانائی کے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس میں مملکت میں پہلے جوہری توانائی گھر کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ قومی توانائی کے امتزاج کی تشکیل اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے فریم ورک کے اندر قومی تقاضوں کے مطابق پائیدار قومی ترقی کے حصول میں اپنا حصہ ڈالا جا سکے۔
سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ مملکت پہلے جوہری توانائی گھر کی تعمیر پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی کانفرنس کے دوران اپنے خطاب میں وزیر موصوف نے کہا ہے کہ ہم اپنے پرامن قومی جوہری توانائی کے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارا نظام اور بنیادی ڈھانچہ بین الاقوامی سطح پر مطلوبہ ریگولیٹری تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔