دمشق میں جرمن سفارت خانہ

شامی عوام کا شام کی تعمیر نو اور جمہوریت کی جانب پیش رفت میں ہرممکن مدد کریں گے: جرمنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر شام کے عوام کو اپنے وطن کی ازسرِنو تعمیر اور ایک آزاد و جمہوری مستقبل کے قیام میں مدد فراہم کرے گا۔

جرمن وزارتِ خارجہ نے "ایکس" پلیٹ فارم پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ "بشارالاسد رجیم کے سقوط کے بعد سے جرمنی مالیات، نقل و حمل اور توانائی کے شعبوں میں عائد پابندیوں کے خاتمے کی حمایت کرتا رہا ہے"۔

بیان میں جرمنی کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کیا گیا جس میں انہوں نے شام پر عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جرمنی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ شامی حکومت کے ساتھ مل کر شام میں معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتا رہے گا تاکہ ایک پائیدار معاشی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ شام میں سیاسی انتقالِ اقتدار کا عمل جامع اور سب کو شامل کرنے والا ہونا چاہیے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

پابندیوں کی ایک طویل فہرست

واضح رہے کہ شام میں 2011ء میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک امریکہ کی جانب سے شامی حکومت، سابق صدر بشارالاسد، ان کے اہلِ خانہ اور کئی وزارتی و اقتصادی شخصیات پر پابندیوں کی ایک طویل فہرست عائد کی گئی۔

سال 2020 ءمیں پابندیوں کی نئی سیریز نافذ کی گئیں۔ ان پابندیوں کا ہدف نہ صرف بشارالاسد کا قریبی حلقہ اور ان کی اہلیہ اسماء الاسد تھیں بلکہ ان کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کیے گئے اور ایسے کسی بھی ادارے یا کمپنی پر بھی پابندیاں لگائی گئیں جو شامی حکومت سے کاروبار کرتا ہو۔

یہ پابندیاں تعمیرات، تیل اور گیس کے شعبوں کو بھی براہِ راست نشانہ بناتی ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں