غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے بھائی کی موت کے بعد ایک بچہ رو رہا ہے - 05-15-2025 - رائٹرز

غزہ: بے گھر افراد کے پناہ گاہ سکول پر اسرائیلی بم باری، 40 فلسطینی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں شمالی علاقے بیت لاہیا سے لے کر جنوب میں موراج کی راہ داری تک پھیلی ہوئی سرحدی پٹی پر بھاری توپ خانے اور جنگی کشتیوں کے ذریعے شدید گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ بات العربیہ کے نمائندے نے بتائی۔

طبی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں محض دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں تقریباً 40 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ یہ حملے غزہ کے مختلف علاقوں میں کیے گئے، جن میں دیر البلح، النصیرات کیمپ اور شہر کے وسطی علاقے "الدرج" خاص طور پر شامل ہے۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ غزہ شہر کے مشرقی اور شمالی علاقے جبالیا البلد پر بھی اسرائیلی فضائی حملے ہوئے۔ اسی طرح خان یونس کے مغرب میں واقع علاقے "المواصی" میں پناہ گزینوں کی خیمہ گاہ اور ایک ایندھن کے مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اسی ضمن میں نمائندے نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں، یعنی عبسان، بنی سہیلہ اور خزاعة میں شدید گولہ باری کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر زمین ہموار کرنے کی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ان علاقوں کے مکین سخت حالات میں نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں، جب کہ غزہ کی طرف جانے والے راستے بند ہونے کی وجہ سے صورت حال مزید سنگین ہوگئی ہے۔

اسی دوران اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا کہ شمالی غزہ میں جھڑپوں کے دوران اس کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔

یہ ہلاکت ایسے وقت میں پیش آئی جب اسرائیل نے غزہ پر اپنا حملہ تیز کر دیا ہے، جو کہ "مركبات جدعون" نامی فوجی کارروائی کے تحت ہفتے کے دن سے جاری ہے۔

پیر کے روز اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اس نے غزہ کے مختلف علاقوں میں 160 اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں جنگجوؤں کے ٹھکانے، ٹینک شکن راکٹ لانچرز، اسلحہ کے گودام اور فوجی بنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔ فوج نے یہ بھی اطلاع دی کہ جنوب غزہ میں ایک سرنگ کو تباہ کیا گیا اور النصیرات کیمپ میں ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا گیا، جسے حماس کا کمانڈ اور کنٹرول سینٹر قرار دیا گیا۔

ادھر العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکا اور حماس کے درمیان براہ راست مذاکرات جاری ہیں، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان دوحہ میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ ہو رہے ہیں۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کسی ممکنہ آخری معاہدے کی کوشش کر رہا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیل پر امریکا کا بڑھتا ہوا دباؤ دراصل خلیجی ممالک کے غیر معمولی دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے، جنھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ رکوانے، یرغمالیوں کے معاہدے پر زور دینے اور امدادی سامان کے داخلے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا دفتر اس وقت سخت دباؤ اور بے چینی کا شکار ہے، کیوں کہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے جنگ ختم نہ کی تو امریکا اسرائیل کی حمایت سے دست بردار ہو سکتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں