پیر کی شام فلوٹیلا کشتی میڈلین اسرائیل کی بندرگارہ اشدود کی جانب بڑھ رہی ہے: بذریعہ اے ایف پی

مشرق وسطیٰ

فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا اسرائیل پر "میڈلین" پر کارکنوں کو اغوا کرنے کا الزام

"میڈلین" بحری جہاز پر سوار تمام افراد کو جلد از جلد ان کے ملکوں کو واپس بھیج دیا جائے گا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے پیر کو اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے غزہ پہنچنے سے روکنے کے بعد "میڈلین" جہاز پر موجود کارکنوں کو "اغوا" کر لیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مانسر نے اعلان کیا تھا کہ گریٹا تھنبرگ سمیت ’میڈلین‘ بحری جہاز پر سوار تمام فلسطینی حامی کارکنوں کو جلد از جلد ان کے ممالک واپس بھیج دیا جائے گا۔

رات کے وقت اسرائیل نے میڈلین کا کنٹرول سنبھال لیا اور یہ سب کچھ آسانی سے ہوگیا بغیر کسی چوٹ کے۔ انہیں اشدود کی اسرائیلی بندرگاہ پر لایا گیا۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ انہیں (فلسطین کے حامی کارکنوں) کو کافی کھانے پینے کی چیزیں ملیں اور یقیناً انہیں جلد از جلد ان کے ملکوں میں واپس بھیج دیا جائے گا۔

پیر کی شام فلوٹیلا کشتی میڈلین اسرائیل کی بندرگارہ اشدود کی جانب بڑھ رہی ہے: بذریعہ اے ایف پی

اخبار ’’ یدیعوت احرونوت‘‘ کے مطابق ترجمان نے کہا اسرائیل ان افراد کو حراست میں نہیں لینا چاہتا۔ اسرائیلی بحریہ کے کمانڈو یونٹ ’’ شیاتیت 13 ‘‘ نے پیر کی صبح میڈلین کشتی کا کنٹرول سنبھال لیا جب وہ غزہ کے ساحل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ بحری جہاز، جس میں 12 فلسطینی حامی کارکن سوار تھے، اسرائیل کی طرف ری ڈائریکٹ کیا گیا تھا اور اس کے مسافروں کے اپنے آبائی ممالک کو واپس آنے کی امید ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

غزہ کے لیے روانہ ہونے والے میڈلین امدادی بحری جہاز کے منتظمین نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے اس سے قبل فلسطینی علاقوں تک پہنچنے سے روکنے کے وعدے کے بعد پیر کی صبح جہاز کو روک لیا تھا۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے جہاز کو اشدود بندرگاہ کی طرف کھینچ لیا ۔ میڈلین کشتی امداد پہنچانے اور پٹی پر برسوں سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے گزشتہ اتوار کو سسلی سے غزہ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں