امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ - 26 جون 2025 - براہ راست نشریات سے

ایران کے خلاف ہماری کارروائیوں سے جنگ رک گئی ، امریکی فوج نے تاریخ رقم کر دی : وزیر دفاع

امریکی چیف آف اسٹاف کے مطابق ایک ماہر ٹیم نے فوردو تنصیب کا کئی سال مطالعہ کیا، اور اس کے لیے ہتھیار خاص طور پر اس طرح تیار کیے گئے کہ ان کی تاثیر فوردو میں یقینی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے پائلٹوں نے بم باری کے بعد فوردو میں دھماکوں کو واضح طور پر دیکھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے آج جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ایران کی ایٹمی تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں کا نیا جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ "امریکی فوج نے ایران میں جو کچھ کیا، وہ تاریخی ہے"۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں نے جنگ کو روکا اور ایران کے جوہری پروگرام کی سرگرمیوں کو کئی برس پیچھے دھکیل دیا۔

ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکی ذرائع ابلاغ نے ایران میں امریکی کامیابی کی اہمیت گھٹا کر پیش کی۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کے لیے شرائط رکھی تھیں، اور ایران پر کیے گئے فضائی حملے تاریخ کے مشکل ترین حملے تھے۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی کوششوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

ادھر چیف آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ امریکی پائلٹوں نے ایران میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ "ایرانی حملے سے قبل ہمیں معلومات موصول ہو گئیں، اور ہم نے ‘العديد’ اڈا خالی کرا لیا"۔

فوردو ایٹمی تنصیب پر حملے کے حوالے سے جنرل کین نے کہا کہ اس تنصیب کا کئی سال مطالعہ کیا گیا اور اسی کے مطابق خصوصی ہتھیار تیار کیے گئے۔ انھوں نے صحافیوں کو وہ وڈیوز دکھائیں جن میں یہ ہتھیار زیر زمین گہرائی میں دھماکے کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے بقول، امریکی پائلٹوں نے فوردو میں دھماکوں کا منظر واضح طور پر دیکھا۔

یاد رہے کہ13 جون سے ایران اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والے حملوں کے بعد امریکا نے اتوار کی صبح فوردو، اصفہان اور نطنز میں تین اہم ایرانی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

یہ حملے امریکا کے اندر بھی موضوعِ بحث بن گئے۔ اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے حملے کر رہا ہے، مگر امریکا میں اس کی مؤثریت پر سوالات اٹھے۔

سی این این کی جانب سے شائع کی گئی ایک ابتدائی خفیہ رپورٹ کے مطابق، امریکی حملوں سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو صرف چند ماہ کی تاخیر ہوئی، جب کہ اس کے بنیادی اجزاء کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ماہرین نے امکان ظاہر کیا کہ ایران نے حملے سے پہلے ان تنصیبات سے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ہٹا لیا تھا۔

غلط رپورٹیں

ان رپورٹوں پر امریکی حکام نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا کہ حملوں سے پہلے ایران نے یورینیم منتقل کیا ہو۔ ان کے مطابق، "جو کچھ ان تنصیبات میں موجود تھا، اب وہ ہفتے کی شب کی کامیاب بمباری کے نتیجے میں ملبے تلے دفن ہے"۔

صدر ٹرمپ نے ان رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر دفاع کو "جنگ کا وزیر" قرار دیا اور کہا کہ وہ امریکی پائلٹوں کی عزت کی حفاظت کے لیے کانفرنس کر رہے ہیں۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ "ایران کی کئی اہم ایٹمی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں اور ان کی بحالی میں کئی سال لگیں گے"۔

اسرائیلی فوج نے بھی کہا کہ اس نے ایران کی جوہری تنصیبات کو "شدید نقصان" پہنچایا، مگر نقصان کی مکمل حد جاننے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ "ہم نے ایران کا ایٹمی منصوبہ ناکام بنا دیا، اور اگر ایران دوبارہ اسے بحال کرنے کی کوشش کرے گا تو ہم اسی شدت اور عزم سے جواب دیں گے"۔

جوہری مذاکرات کی بحالی

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جنگ کی وجہ سے تعطل کا شکار ہو گئے تھے، لیکن صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ دونوں فریق اگلے ہفتے مذاکرات کریں گے۔ ان کے خصوصی ایلچی اس امید کا اظہار کر چکے ہیں کہ ایک "جامع امن معاہدہ" طے پا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ ایران اور اسرائیل دونوں تھک چکے ہیں، اور ممکن ہے کہ اگلے ہفتے کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا اور وہ صرف پرامن ایٹمی توانائی کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔ ساتھ ہی اس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی حملے بند ہو جائیں تو وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

بارہ روزہ جنگ کے بعد پابندیاں ختم

ایران اور اسرائیل میں جنگ کے دوران لگائی گئی پابندیاں اب بتدریج ہٹائی جا رہی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ اب تک کا سب سے شدید براہ راست تصادم تھا۔

ایرانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 627 شہری جاں بحق ہوئے۔ ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل میں 28 افراد ہلاک ہوئے، یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی سپاہ پاسداران کے کمانڈر حسین سلامی، جو اسرائیلی حملے میں مارے گئے، کی تدفین جمعرات کو اُن کے آبائی علاقے میں نہیں ہو گی۔ ان سمیت دیگر اعلیٰ علما اور فوجی کمانڈروں کی سرکاری جنازہ تقریب ہفتے کو تہران میں ہو گی۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں