امریکی حملوں کے بعد فوردو (اے ایف پی)
رپورٹس جھوٹی، ایران نے امریکی حملوں سے قبل افزودہ یورینیم منتقل نہیں کیا: وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ایران نے تین ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فوجی حملے سے قبل انتہائی افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے کو منتقل نہیں کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا اداروں پر شدید حملہ کیا جب انہوں نے ایک خفیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ شائع کی جس میں امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی حمایت میں کیے گئے فوجی حملے کی تاثیر پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا۔ اس حملے میں ایران میں تین جوہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ تین مقامات فردو، نظنز اور اصفہان تھے۔
ان مخصوص حملوں کو انجام دینے کے بعد سے صدر ٹرمپ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے نتیجے میں تینوں جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے 60 فیصد افزدوہ تقریباً 400 کلو گرام انتہائی افزودہ یورینیم کے ان جوہری مقامات کو خالی کر کے حملے کی پیش کش کی تھی۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کو بتایا ہے کہ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ امریکہ کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں کہ حملوں سے قبل انتہائی افزودہ یورینیم کو ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے برعکس معلومات "جھوٹی" ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب سائٹس پر جو کچھ ہے وہ ہفتے کی رات کامیاب حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملبے تلے دب گیا ہے۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ معتبر معلومات کے مطابق تہران کے جوہری پروگرام کو حالیہ ٹارگٹڈ حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ایک قابل اعتماد اور تاریخی اعتبار سے درست ذریعہ سے حاصل ہونے والی نئی معلومات پر مبنی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی کئی اہم جوہری تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں اور ان کی تعمیر نو میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
تہران نے بدھ کے روز اعتراف کیا تھا کہ 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور امریکی بمباری سے اس کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے فرانس 2 ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ایجنسی جنگ شروع ہونے کے وقت سے اس مواد کی نگرانی نہیں کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا میں یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ افزدوہ یورینیم کھوگئی ہے یا چھپا لی گئ ہے۔ منگل کو سی این این کی طرف سے شائع ہونے والی ایک خفیہ دستاویز کے مطابق امریکی حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا اور صرف چند ماہ کی تاخیر کر دی ہے۔