دی ہیگ میں ٹرمپ-زیلینسکی ملاقات سے - 25 جون 2025 رائٹرز

ٹرمپ اورزیلینسکی کی دی ہیگ میں پہلی تفصیلی ملاقات، 50 منٹ کی گفتگومیں کیا اہم باتیں ہوئیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرینی صدر وولاودیمیر زیلینسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز دی ہیگ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی، جسے دونوں رہنماؤں نے "اچھی" اور "تعمیری" قرار دیا۔ یہ ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔

زیلینسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پیغام میں بتایا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ روسی حملے کے بعد یوکرین میں فائر بندی اور حقیقی امن کے قیام کے راستوں پر بات چیت کی۔ انہوں نے ملاقات کو "طویل اور بامقصد" قرار دیا۔

زیلینسکی کے مطابق انہوں نے امریکی دفاعی نظام کی خریداری اور ڈرونز کی مشترکہ تیاری کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔

یوکرینی صدارتی دفتر نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔

زیلینسکی مطمئن، ٹرمپ خوش

ایک اعلیٰ یوکرینی صدارتی عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ زیلینسکی اس ملاقات سے "مطمئن اور ٹرمپ کے شکر گزار" ہیں۔

اس عہدیدار نے جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کہا کہ ملاقات "اچھی فضا میں ہوئی"، حالانکہ دونوں رہنماؤں کے تعلقات پیچیدہ رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس ملاقات کو "اچھا" قرار دیا۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا: "ہمارے درمیان بعض اوقات مشکل وقت بھی آیا، لیکن زیلینسکی جتنے خوش اخلاق تھے، اتنے وہ پہلے کبھی نہیں لگے"۔

روس پر پابندیاں اور ہتھیاروں کی خریداری

ایک دن قبل ایک یوکرینی اعلیٰ عہدیدار نے بتایا تھا کہ زیلینسکی اس ملاقات میں روس پر مزید پابندیوں اور امریکہ سے جدید ہتھیاروں، خصوصاً پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

اسی ذریعے نے اشارہ دیا تھا کہ زیلینسکی روسی تیل کی قیمتوں میں کمی کا معاملہ بھی اٹھا سکتے ہیں، جو اب بھی ماسکو کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے۔

پہلی طویل ملاقات

یہ دونوں رہنماؤں کی اپریل میں روم میں پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے موقع پر ہونے والی مختصر ملاقات کے بعد پہلی باضابطہ اور تفصیلی ملاقات تھی۔

یوکرین جو گذشتہ تین برسوں سے روسی جارحیت کا سامنا کر رہا ہے ۔جس میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، مغربی، خصوصاً امریکی حمایت پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے۔

تاہم امریکی حمایت کے تسلسل پر خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، کیونکہ امریکہ کی جانب سے اس تنازع میں مسلسل شمولیت نہ رکھنے کا امکان موجود ہے۔ امریکی صدر یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کے لیے اقدامات پرزور دے چکے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں