ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان تنازعہ ، ٹرمپ نے ایلون مسک کو ملک بدر کرنے پر غور کا عندیہ
امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے سابقہ ارب پتی ساتھی ایلون مسک کے درمیان تعلقات میں خرابی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تعلقات کی اس خرابی کا بڑا سبب ایلون مسک کی کمپنی 'ٹیسلا' کی بنائی ہوئی الیکٹرک گاڑیوں کے سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ کی نئی قانون سازی کے اثرات بن رہے ہیں۔
منگل کے روز ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ایلون مسک کو ملک بدر کرنے پر سوچنا ہوگا اور اس معاملے کا جائزہ لینا ہوگا۔
انہوں نے اس امر کا اظہار ٹیکسوں سے متعلق ایک بل پر اپنے دستخطوں کے بعد کیا ہے۔
امریکی انتظامیہ میں بہتری لانے اور حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے ٹرمپ کا انتخاب بننے والے ایلون مسک امریکی شہری ہیں مگر ان کی پیدائش جنوبی افریقہ کی ہے۔ اس لیے اس بڑے ہوئے دو طرفہ تنازعے کے دوران جب رپورٹرز نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اس بڑی کاروباری شخصیت کو ملک بدر کریں گے تو ان کا کہنا تھا 'مجھے نہیں معلوم۔ اس بارے میں کچھ رائے بنانے سے پہلے مجھے اس معاملے کو دیکھنا ہوگا۔'
ایلون مسک نے ریپیبلیکن ٹیکس بل پر تنقید کر کے ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید خراب کر لیا ہے۔ ریپیبلیکن ٹیکس بل کی منظوری سے الیکٹرک گاڑیاں خریدنے والے صارفین کے لیے کریڈٹ کے خاتمے کے معاملے کو تیز کیا جا رہا ہے۔
ایلون مسک کی سربراہی میں کام کرنے والی ان کی کمپنی 'ٹیسلا' کے حصص کی قدر میں 4 فیصد کمی آگئی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بل پر ایلون مسک کی تنقید کو سبسڈی کے اسی خاتمے سے جوڑا کیونکہ سبسڈی کی وجہ سے ایلون مسک کی کمپنیوں کو فائدہ ہونا تھا۔
یاد رہے منگل ہی کے روز ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ مسک کی کمپنیوں کے لیے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کو واپس لے سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا ایلون مسک اپنا الیکٹرک وہیکلز بنانے سے متعلق سرکاری مینڈیٹ اور رعایت کھو رہے ہیں اور مستقبل میں وہ اس سے زیادہ کھو سکتے ہیں۔
خیال رہے 'ای وی مینڈیٹ' امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایک ایسی سہولت ہے جو تیل کے استعمال سے پیدا ہونے والی آلودگی کم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ہے۔ الیکٹرک وہیکلز بنانے والوں کو ایک ترغیب کے طور پر دی جاتی ہے۔ تاکہ ان کی گاڑیاں زیادہ فروخت ہو سکیں اور تیل کا استعمال کم کرنے کی پالیسی آگے بڑھ سکے۔
مسک نے ریپیبلیکن قانون سازی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اخراجات کے حوالے سے ایک پاگل بل ہے۔ جو امریکہ میں مستقبل میں تیسری سیاسی جماعت کا راستہ ہموار کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے اس امر سے انکار کیا کہ ان کی طرف سے ٹرمپ کی مخالفت کی وجہ ان کی کمپنی کے لیے سبسڈی کی سہولت کے خاتمے کے لیے ہے۔
ایلون مسک 2024 کے صدارتی الیکشن میں پہلی بار ٹرمپ کے حامی بن کر سامنے آئے۔ جبکہ ٹرمپ نے الیکشن جیتنے کے بعد انہیں حکومتی مستعدی اور کارکردگی بہتر کرنے کے لیے ذمہ داری دی کہ وہ سرکاری ورک فورس اور اخراجات دونوں میں کمی لائیں۔
تاہم ایلون مسک نے ٹرمپ سے اختلاف پیدا ہونے کے بعد مئی کے اواخر میں ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ جس نے حالیہ دنوں میں ریپیبلیکن بل پر بار بار تنقیدی حملے کیے ہیں۔ اس سے ان دونوں کے درمیان تنازعہ مزید پھیل رہا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ وفاقی حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بنائے گئے ادارے 'ڈی او جی ای' کے حوالے سے بھی سوچ رہے ہیں کہ وہ ایلون مسک کی کارکردگی اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کا جائزہ لے سکیں۔ ٹرمپ نے اس ادارے کو ایک عفریت قرار دیا ۔