فلسطینی غزہ میں غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کی طرف سے خوراک کی امداد لے جا رہے ہیں - اے ایف پی، 25 جون، 2025
جمعرات کو شائع ہونے والی ایسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیقات میں شہادتوں اور ویڈیو فوٹیج کی بنا پر انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں امداد کی تقسیم کے مقامات کی حفاظت کرنے والے امریکی کنٹریکٹرز کھانے کے لیے بھاگنے والے بھوکے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کر رہے ہیں۔ امریکی بھوک سے نڈھال فلسطینیوں کے خلاف صوتی بم اور براہ راست گولہ بارود کا استعمال کر رہے ہیں۔
دو امریکی کنٹریکٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایجنسی سے بات کی اور کہا کہ انہوں نے بات کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ وہ ’’غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن ‘‘ کے زیر انتظام امدادی مراکز میں خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے بارے میں فکر مند تھے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بھرتی کیے گئے سکیورٹی اہلکار اکثر نااہل، غیر جانچ شدہ اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ہوتے ہیں۔ یہ کنٹریکٹر مکمل استثنیٰ کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ان پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ساتھی اکثر فلسطینیوں پر سٹن گرنیڈ اور مرچ سپرے پھینکتے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہر طرف گولیاں چلائی جا رہی ہیں فضا میں، زمین پر اور کبھی فلسطینیوں پر بھی ۔ ایک کنٹریکٹر نے کہا اسے کم از کم ایک واقعہ یاد آیا جس میں اس کا خیال تھا کہ ایک فلسطینی کو براہ راست گولہ بارود کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک نے کہا کہ معصوم لوگوں کو بلا ضرورت شدید زخمی کیا جا رہا ہے ۔
اسرائیلی فوج اور لائیو فوٹیج سے نگرانی
کنٹریکٹر نے وضاحت کی کہ امداد کی تقسیم کے مقامات پر امریکی اہلکار کھانے کی درخواست کرنے کے لیے آنے والے لوگوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ کسی کو بھی "مشکوک" سمجھا جاتا تو اس کی یہ معلومات اسرائیلی فوج کے ساتھ شیئر کردی جاتی ہے۔ ویڈیو کو فلمانے والے کنٹریکٹر نے کہا کہ اسرائیلی فوج معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے امداد کی تقسیم کے نظام کا استحصال کرتی ہے۔
دونوں کنٹریکٹرز نے مزید کہا کہ کیمرے ہر سائٹ پر تقسیم کی کارروائیوں کی نگرانی کی جاتی ہے اور امریکی تجزیہ کار اور اسرائیلی فوجی ایک کنٹرول روم میں بیٹھتے ہیں جہاں لائیو فوٹیج دکھائی جاتی ہے۔ یہ کنٹرول روم غزہ میں کریم شالوم کراسنگ کے اسرائیلی جانب ایک شپنگ کنٹینر میں واقع ہے۔
چہرے کی شناخت کا سافٹ ویئر
ایک امریکی کنٹریکٹر نے بتایا کہ کچھ کیمرے چہرے کی شناخت کے سافٹ ویئر سے لیس ہیں۔ کچھ ویڈیوز پر "تجزیہ" کا لیبل لگا ہوا ہوتا ہے اور ان میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی بھی ہوتی ہے ۔ ٹھیکیدار نے مزید کہا کہ اگر کوئی دلچسپی والا شخص کیمرے پر نظر آئے اور اس کی معلومات سسٹم میں ریکارڈ کی جائے تو کمپیوٹر سکرین پر اس کا نام اور عمر ظاہر ہوجائے گی۔ سکرینوں کو دیکھنے والے اسرائیلی فوجی نوٹس لیں گے اور تجزیہ کاروں کی معلومات کا موازنہ سائٹس سے ڈرون فوٹیج سے کریں گے۔
ٹھیکیدار نے کہا کہ اسے اور دیگر ملازمین سے کہا گیا تھا کہ وہ کسی ایسے شخص کی تصویر بنائیں جو "نامناسب" نظر آئے تاہم نامناسب ہونے کا معیار واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تصاویر کو چہرے کی شناخت کے ڈیٹا بیس میں شامل کیا گیا تھا، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ معلومات کے ساتھ کیا کیا گیا ہے۔
بیت لاہیا، شمالی غزہ کی پٹی میں فلسطینی خوراک کی امداد کے قریب جمع ہیں - رائٹرز، 23 جون، 2025
اسرائیلی اور امریکی فائرنگ
کنٹریکٹر، جس نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ویڈیو دستاویزات فراہم کیں، نے مزید کہا کہ ان مقامات پر پہنچنے والے فلسطینیوں نے خود کو اسرائیلی اور امریکی فائرنگ کے درمیان پھنسا ہوا پایا ہے۔ فلسطینی انھیں کہیں گے کہ ہم یہاں اپنے اہل خانہ کے لیے کھانا لینے آئے تھے۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج ہم پر کیوں گولی چلا رہی ہے؟ آپ ہم پر کیوں گولی چلا رہے ہیں؟ ایک ٹھیکیدار کی طرف سے فراہم کردہ ویڈیوز، جو ان مقامات پر فلمائی گئی ہیں، سینکڑوں فلسطینیوں کو دھاتی دروازوں کے درمیان جمع ہوتے ، گولیوں کی آوازوں، سٹن گرینیڈز اور کالی مرچ کے سپرے کی آوازوں کے درمیان امداد کے لیے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
گولی مارنے کی ترغیب
دیگر ویڈیوز میں انگریزی بولنے والے مردوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو دکھایا گیا ہے جس میں ہجوم کو منتشر کرنے اور فائرنگ کے بعد ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنے کے طریقے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ ایجنسی کے ذریعے دیکھے گئے ویڈیوز ٹھیکیداروں کے بیان کردہ افراتفری کے مناظر کی تصدیق کر رہی ہیں۔ یہ فوٹیج تقسیم کے پہلے دو ہفتوں کے دوران فلمائی گئی تھی۔
ایک ویڈیو میں مسلح امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز غزہ کے ایک مقام پر اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ قریبی فلسطینیوں کو کیسے منتشر کیا جائے۔ قریب ہی کم از کم 15 گولیاں سنائی دیتی ہیں، ایک ٹھیکیدار چیختا ہے "اوہ!" ایک اور کہتا ہے "مجھے لگتا ہے کہ آپ نے کسی کو مارا ہے۔"
ویڈیو بنانے والے ٹھیکیدار نے بتایا کہ اس نے دوسرے ٹھیکیداروں کو ان فلسطینیوں پر بھی گولیاں چلاتے ہوئے دیکھا جنہوں نے اپنا کھانا اکٹھا کیا تھا اور جا رہے تھے۔ فائرنگ کا آغاز ہجوم کو منتشر کرنے کے مقصد سے ہوا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ لوگوں کے جانے کے بعد ان پر فائرنگ کیوں جاری رکھی گئی تھی۔ کیمرہ یہ نہیں دکھا رہا کہ فائرنگ کس نے کی یا کیا لیکن فلم بنانے والے ٹھیکیدار نے بتایا کہ اس نے ایک اور کنٹریکٹر کو فلسطینیوں پر فائر کرتے ہوئے دیکھا اور پھر تقریباً 60 میٹر دور کسی کو اسی مقام پر زمین پر گرتے ہوئے دیکھا جہاں فائرنگ کی گئی تھی۔
دیگر ویڈیوز میں سرمئی وردیوں میں ملبوس مرد ، جن کے بارے میں اس نے بتایا کہ اس کے ساتھی تھے، کو ایک تنگ اور باڑ والے راستے میں پھنسے فلسطینیوں کو نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ یہ لوگ کالی مرچ کا سپرے فائر کرتے ہیں اور سٹن گرینیڈ پھینکتے ہیں جو ہجوم میں پھٹ جاتے ہیں۔ فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
بھیڑ یا اوور ہیڈ کے قریب گولیاں
امریکی کنٹریکٹر نے کہا کہ سکیورٹی اہلکار عام طور پر ہجوم کے قریب زمین پر یا اپنے سر کے اوپر قریبی ٹاورز سے گولی چلاتے ہیں۔ کنٹریکٹر کی طرف سے شیئر کی گئی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک وہ خاتون گدھا گاڑی میں لیٹی ہوئی ہے جس کے سر میں ایک سٹن گرینیڈ مارا گیا ہے۔
غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن
ایسوسی ایٹڈ پریس کے ذریعہ حاصل کردہ ویڈیوز، اندرونی رپورٹس اور ٹیکسٹ پیغامات کے ساتھ کنٹریکٹر کی گواہی اسرائیل کی حمایت یافتہ اس نئی امریکی تنظیم غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کی ایک نادر جھلک فراہم کر رہی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکہ میں قائم UG سلوشنز کے دو ٹھیکیداروں سے بات کی ہے۔ یہ کمپنی امداد کی تقسیم کے مقامات پر حفاظتی عملے کے لیے رکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گولیاں، سٹن گرینیڈ اور مرچ سپرے تقریباً ہر تقسیم میں استعمال ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس دوران بھی استعمال ہوتا ہے جب کوئی خطرہ نہ ہو۔
ہجوم کو کنٹرول کرنے کے اقدامات
سیف ریچ سولیوشنز کے ترجمان جی ایچ ایف کے لاجسٹکس سب کنٹریکٹر نے کہا کہ کسی بھی سائٹ پر کوئی سنگین چوٹ نہیں آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ الگ تھلگ واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی توجہ مبذول کرنے کے لیے زمین پر اور شہریوں سے دور گولہ بارود سے گولہ باری کی ہے۔ یہ انتہائی مایوسی ایڈ ہوا اس وقت ہوا جب ہجوم پر قابو پانے کے اقدامات شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری سجھے گئے۔
غزہ میں بیس لاکھ سے زیادہ فلسطینی ایک تباہ کن انسانی بحران کا شکار ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیلی نے غزہ پر وحشیانہ بمباری اور زمینی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ 57 ہزار کے قریب فلسطینیوں کو قتل کردیا گیا ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں امدادی سامان کی ترسیل بند کردی ہے اور غزہ کی تمام آبادی شدید بھوک اور قحط کا سامنا کر رہی ہے۔ مئی میں غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے افتتاح سے پہلے ڈھائی ماہ تک اسرائیل نے تمام خوراک، پانی اور ادویات کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھا تھا۔ 66 فلسطینی بھوک سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔