صورة للكنيس اليهودي - من وسائل اعلام أسترالية
آسٹریلیا: یہودی عبادت گاہ میں مبینہ طور پر آگ لگانے کی کوشش، ملزم کی تلاش جاری
ملبورن میں پیش آنے والے واقعے کو نفرت پر مبنی حملہ قرار دیا گیا
آسٹریلوی حکام نے ہفتے کے روز ملبورن کے ایک یہودی عبادت خانے میں لگنے والی آگ کو "جان بوجھ کر کیا گیا حملہ" قرار دیا ہے۔ واقعے کے وقت عبادت گاہ میں عبادت گذار موجود تھے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس کے مطابق جمعہ کی شام وکٹوریا ریاست کے دارالحکومت کے مشرقی علاقے میں واقع اس عبادت خانے کے مرکزی دروازے پر آگ بھڑکی، جسے فائر بریگیڈ نے فوری طور پر قابو میں لے لیا۔ اندر موجود بیس افراد بحفاظت نکلنے میں کامیاب رہے۔
وکٹوریا کی وزیرِاعلیٰ جیسنٹا آلان نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’عبادت گاہ پر کیا جانے والا ہر حملہ نفرت انگیزی کا مظہر ہے اور اگر نشانہ یہودی عبادت گاہ ہو تو یہ صریح سامیت دشمنی ہے"
آتش گیرمواد چھڑکنے کا شبہ
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ آور نے دروازے پر کوئی آتش گیر مادہ چھڑک کر آگ لگائی۔ مشتبہ شخص کی عمر تقریباً 30 سال بتائی جا رہی ہے، جو غالباً قاقز نژاد ہے۔ تاہم اس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔
موقع پر نصب کیمروں سے لی گئی ایک تصویر بھی جاری کی گئی ہے، جس میں ایک لمبے بالوں اور گھنی داڑھی والے شخص کو سیاہ لباس میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصویر آسٹریلوی ویب سائٹ "9نیوز" نے شائع کی۔
یہ واقعہ سات ماہ بعد ایک اور یہودی عبادت گاہ کو نشانہ بنانے کے بعد پیش آیا، جس میں آگ لگنے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا اور ایک شخص زخمی بھی ہوا تھا۔
رواں سال آسٹریلیا میں یہودی برادری کے خلاف کئی واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں گھروں، سکولوں، عبادت گاہوں اور گاڑیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام ان حملوں کو نسل پرستی اور نفرت انگیزی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔