امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 21 جون 2025 کو ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف امریکی حملوں کے دوران وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔ (وائٹ ہاؤس)
ایران سے بات کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے: ٹرمپ
اگست کے آخر تک معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ تہران امریکہ سے جوہری مذاکرات میں شامل ہونے کی امید کر رہا ہے لیکن انہیں کوئی جلدی نہیں کر ہے۔
ٹرمپ نے پٹسبرگ کے دورے سے واشنگٹن واپس پہنچنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "وہ بات کرنا چاہیں گے۔ لیکن مجھے کوئی جلدی نہیں ہے کیونکہ ہم نے ان کی ایٹمی تنصیبات ختم کر دی ہیں۔"
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے پیر کے روز فون پر گفتگو میں ایران سے جوہری معاہدہ طے کرنے کے لیے اگست کا آخر ڈی فیکٹو ڈیڈلائن کے طور پر طے کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ بیان اسی دوران سامنے آیا ہے۔ ایگزیاس میڈیا نے تین ذرائع کے حوالے سے اس بات کی اطلاع دی۔
ایگزیاس کے مطابق اگر اس ڈیڈلائن تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو تینوں یورپی طاقتیں "سنیپ بیک" طریقے پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جس کے تحت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی وہ تمام پابندیاں خود بخود دوبارہ نافذ ہو جائیں گی جو 2015 کے ایران معاہدے کے تحت اٹھائی گئی تھیں۔