تہران میں ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن پر اسرائیلی بمباری (رائٹرز) 16 جون
ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر سکتے ہیں: روس میں اسرائیلی سفیر
سِمونا ہالبرین نے کہا کہ تل ابیب کا ماننا ہے کہ حالیہ حملوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو کم از کم دو سے تین سال پیچھے دھکیل دیا ہے
روس میں اسرائیل کی خاتون سفیر سِمونا ہالبرین نے اعلان کیا ہے کہ اگر تل ابیب کو ایران کی جانب سے فوجی مقاصد کے لیے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا خطرہ محسوس ہوا، تو وہ اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہو گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ امکان بڑی حد تک خارج از قیاس ہے۔
ہالبرین نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کہا "اگر ہم نے دیکھا کہ ایران اپنے اس پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تو ہم اس امکان پر غور کریں گے، لیکن فی الحال یہ صورتِ حال کچھ بعید نظر آتی ہے۔" یہ بات آج جمعے کے روز روسی خبر رساں ایجنسی "ٹاس" نے بتائی۔
جوہری پروگرام
اسرائیلی سفیر نے مزید کہا کہ تل ابیب کا ماننا ہے کہ حالیہ حملوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو کم از کم دو سے تین سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا "ہمارے ماہرین، صرف عسکری نہیں بلکہ دیگر ماہرین کے اندازے کے مطابق، ایرانی جوہری پروگرام کو پہنچنے والا نقصان انتہائی شدید ہے، اور ہمارا خیال ہے کہ ان کا پروگرام کم از کم دو یا تین سال پیچھے چلا گیا ہے۔"
Your browser doesn’t support HTML5 video
امریکی جائزہ رپورٹ
ادھر پانچ موجودہ اور سابقہ امریکی حکام کے مطابق، امریکا کے ایک تازہ تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ کی جانب سے جون میں کیے گئے حملوں میں ایران کے تین میں سے صرف ایک جوہری مقام کو مکمل طور پر تباہ کیا جا سکا۔ یہ بات جمعرات کو "این بی سی نیوز" نے بتائی۔
حکام نے بتایا کہ تجزیے سے ظاہر ہوا کہ صرف ایک جوہری مقام مکمل طور پر تباہ ہوا، جس سے وہاں کام میں شدید تاخیر ہوئی، جبکہ باقی دو مقامات کو اس حد تک نقصان نہیں پہنچا، اور ان کی حالت شاید ایسی ہے کہ اگر ایران چاہے تو چند ماہ میں دوبارہ یورینیم کی افزودگی شروع کر سکتا ہے۔
دو ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ "فوردو" کے مقام پر حملے نے ایران کی افزودگی کی صلاحیت کو تقریباً دو سال تک مؤخر کر دیا ہے۔
بارہ روزہ جنگ
یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر فضائی حملوں کا آغاز کیا، جس میں ایرانی عسکری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور ساتھ ہی کئی اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنس دانوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ جواب میں ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
اس تنازع کے نتیجے میں امریکا بھی میدان میں آ گیا، اور 22 جون کو اس نے تہران کے جنوب میں واقع "فوردو" کے زیرِ زمین یورینیم افزودگی مرکز کے علاوہ اصفہان اور نطنز میں دو جوہری تنصیبات کو بمباری کا نشانہ بنایا۔
جواب میں ایران نے قطر اور عراق میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ بعد ازاں 24 جون کو امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔