غزہ کی پٹی میں شاطی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایک فلسطینی بچہ ملبے پر بیٹھا ہے - 9 جولائی 2025 رائٹرز

ثالثی ممالک نے غزہ کے حوالے سے اسرائیل اور حماس کو نئی تجویز پیش کر دی

دو با خبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس مجوزہ معاہدے میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاملہ شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر، مصر اور امریکہ نے اسرائیل اور حماس کو محصور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ یہ بات دو با خبر ذرائع نے جمعرات کے روز بتائی۔

"نیا مجوزہ معاہدہ"

ذرائع کے مطابق یہ تازہ ترین تجویز بدھ کے روز پیش کی گئی، جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی ایک نئی شکل شامل ہے۔ خبر رساں ویب سائٹ "axios" کے مطابق ثالثوں کا ماننا ہے کہ اس نئی تجویز میں اسرائیل کی جانب سے دی گئی رعایتیں کسی معاہدے تک جلد پہنچنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔ بالخصوص اس لیے کہ اسرائیل اور حماس پچھلے دس دنوں کے دوران دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے دوران بعض اختلافات کو دور کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زیرِ غور معاہدے میں غزہ میں ساٹھ دن کے لیے جنگ بندی، دس زندہ قیدیوں کی رہائی، اٹھارہ دیگر کی باقیات کی حوالگی، اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں زبردست اضافہ شامل ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

مزید یہ کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے دوران اپنے فوجی وجود کو محدود کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور غزہ و مصر کی سرحد پر "فلاڈلفیا راہ داری" کے شمال میں پانچ کلو میٹر کے بجائے صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے اندر موجودگی پر رضامندی ظاہر کی ہے، جو حماس کے مطالبے کے قریب تر ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجوزہ معاہدے میں دو اہم ترامیم شامل کی گئی ہیں.... پہلی، جنگ بندی کے دوران اسرائیلی فوج کے انخلا کے دائرۂ کار سے متعلق، اور دوسری، ہر اسرائیلی قیدی کے بدلے میں رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد سے متعلق۔

توقع ہے کہ قطری وزیر اعظم ہفتے کے روز دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے تاکہ ان کی طرف سے اس مجوزہ معاہدے کی منظوری حاصل کی جا سکے۔

"پیش رفت اچھی ہو رہی ہے"

یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کا اصرار تھا کہ وہ غزہ اور مصر کی سرحد پر "فلاڈلفیا راہ داری" کے شمال میں پانچ کلو میٹر تک موجود رہے گا، لیکن اب اس نے اپنا مطالبہ کم کرتے ہوئے صرف 1.5 کلومیٹر تک محدود کر دیا ہے۔ یہ حماس کے حالیہ مطالبے کے مطابق ہے، جیسا کہ گزشتہ جنگ بندی کے دوران تھا۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری مذاکرات میں "اچھی پیش رفت" ہو رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز واشنگٹن میں ایک قانون پر دستخط کی تقریب کے دوران کہا تھا کہ "ہمارے پاس غزہ کے حوالے سے کچھ اچھی خبریں ہیں، اور دیگر معاملات پر بھی ہم کام کر رہے ہیں"۔ انھوں نے اسٹیو وِٹکوف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں