ٹرمپ کا تین ایرانی جوہری تنصیبات کو مکمل تباہ کرنے کے اپنے دعوے پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امر پر ایک بار پھر اصرار کیا ہے کہ امریکی بمباری نے ایرانی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔

تاہم ایرانی جوہری تنصیبات پر اسرائیل و امریکہ کی بمباری کے بعد سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ تنصیبات میں سے بعض کا بڑا حصہ ٹھیک رہا۔

ٹرمپ کے اپنے 'ٹرتھ سوشل' پر اس دعوے کو دہرایا جاتا رہا ہے کہ تمام تین جوہری مراکز مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا ایران کو اب ان جوہری مراکز کو دوبارہ کارآمد بنانے یا ان سے دوبارہ کام لینے کے لیے کئی سال لگ جائیں گے اور اگر ایران نے دوبارہ ایسا کرنا چاہا تو بہتر ہوگا کہ وہ اسے نئے سرے سے شروع کرے اور نئی جگہوں پر شروع کرے۔

امریکی بموں اور میزائلوں سے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کو 22 جون کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکہ نے اپنے سب سے بڑے بنکر بسٹر بم سے ایرانی تنصیبات فوردو جو کہ یورینیم افزودگی کے حوالے سے بہت اہم ہے اسے نشانہ بنایا۔ فوردو کا یہ جوہری مرکز تہران کے جنوب میں واقع ہے۔ اسی طرح اصفہان اور نتنز کے جوہری مراکز کو بھی امریکہ نے بدترین بمباری کا نشانہ بنایا۔

اس بمباری کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی ایران کے خلاف اپنی جنگی مہم کے دوران ایرانی جوہری و فوجی تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے کئی روز بمباری کرتا رہا۔

تاہم آخر میں امریکہ کی مکمل ناک آؤٹ کر دینے والی بمباری ہوئی۔ دوسری جانب ایران کا اصرار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ وہ سول جوہری توانائی کے لیے کوشاں ہے۔

ٹرمپ اپنی کامیابی کو اس کے باوجود ٹھہراتے ہیں کہ کئی امریکی میڈیا ہاؤسز نے انٹیلی جنس ذرائع کی مدد سے ایسی خبریں لیک کی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ نقصان جتنا کہ بتایا جا رہا ہے اتنا نہیں ہوا۔

تازہ ترین میڈیا رپورٹس جمعہ کے روز 'این بی سی نیوز' کی طرف سے سامنے آئی ہیں۔ جس میں فوجی ذرائع سے کہا گیا ہے کہ اب تک کے لگائے گئے تخمینہ کے مطابق ایران کی تین بڑی جوہری تنصیبات میں سے صرف ایک کا بڑا حصہ تباہ ہوا ہے۔ جبکہ دو جوہری تنصیبات قابل مرمت ہیں اور اگلے چند ماہ میں یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں شروع کر سکتی ہیں۔

'این بی سی نیوز' کی یہ رپورٹ امریکہ کے پانچ موجودہ اور سابق فوجی حکام کے حوالے سے ہے جو ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کے معاملے سے آگاہ ہیں۔

'این بی سی نیوز' نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ پینٹاگون نے ایرانی جوہری مراکز کو بموں کے ذریعے تباہ کرنے کی ایک بڑی مہم کی تیاری کی تھی جو کئی ہفتوں پر مشتمل ہو سکتی تھی۔کبھی بھی ایک رات میں اس تباہی کی آپشن نہیں چنی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق ایک موجودہ اور ایک سابق فوجی ذمہ دار صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو رد کرتے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں