شمالی غزہ کی پٹی میں فلسطینی بڑھتے ہوئے فاقوں کے جلو میں امدادی سامان کاندھوں پر اٹھائے گھروں کو جا رہے ہیں: 25 جولائی 2025 رائیٹرز
بالاآخر عالمی رائے عامہ کے خوف سے اسرائیل نے غزہ کے لیے خوراک اور امدادی سامان کی ترسیل روکے رکھنے کی حکمت عملی کو قدرے بدلنے کا اشارہ دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل بعض ممالک کو پیراشوٹ کے ذریعے جنگ زدہ غزہ میں امدادی تھیلے پھینکنے کی اجازت دے دے گا۔
یاد رہے 2024 میں اکا دکا بار اردن اور امریکہ فضا سے بے گھر فلسطینیوں کے لیے خوارک کے تھیلے پھینکے تھے۔ مگر اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے اس طرح امداد اور خوراک ڈراپ کرنے کو محض ایک علامتی اور انتہائی محدود سی سرگرمی کے طور پر دیکھا تھا اور کہا تھا کہ زمینی راہداریوں سے خوراک یا امداد پہنچانے کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا ہے۔
اب اگرچہ اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے جمعہ کے روز یہ خبر دی ہے۔تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس بارے میں ابھی تک تبصرے کے لیے درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
غزہ کی فلسطینی وزارت صحت کے مطابق حالیہ دنوں میں غزہ میں ایک سو سے زائد فلسطینی فاقہ کشی کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان میں شیر خوار بچوں سے لے کر کم سن بچوں کی تعداد بھی ڈیڑھ سے دو درجن کے قریب ہو رہی ہے۔
یہ صورت حال اسرائیلی فوج کی طرف سے 2 مارچ سے بد ترین ناکہ بندی کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ اسرائیلی فوج نے بعض مبصرین کے مطابق بھوک اور قحط کو بھی غزہ کے فلسطینیوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کو ہمیشہ سے ہی ایک کھلی جیل بنا کر یہاں کے فلسطینیوں کو محاصرے میں رکھنے کی کوشش کی ہے مگر ماہ مارچ سے یہ معاملہ سنگین تر کر دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق جولائی کے پہلے دو ہفتوں کے دوران غزہ میں یونیسیف کے توسط سے 5 ہزار ایسے بچوں کو علاج کی سہولت دی گئی جو فاقہ کشی کی وجہ سے بیمار اور لاغر ہو چکے تھے ۔ یاد رہے اسی مہینے کے دوسرے وسط میں امریکہ نے یونیسیف سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اسرائیل نے یونیسیف سے امریکی تعلق توڑے جانے کو بہت سراہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ڈبلیو ایچ اوکے سربراہ ٹیڈراس ادھانوم غبریسس نے بدھ کے روز کہا ہے غزہ کے فلسطینیوں کو انسانی ساختہ قحط کا سامنا ہے ان پر ناکہ بندی کرکے بھوک مسلط کی جارہی ہے اور وہ بھوک سے مر رہے ہیں۔