مقبوضہ شام کی گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی افواج (ایسوسی ایٹڈ پریس)
پیرس میں شام اور اسرائیل کے درمیان ابتدائی مذاکرات، کشیدگی کم کرنے پر بات چیت
کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، صرف مشاورت ہوئی، رابطوں کی بحالی اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش جاری رہے گی: شامی سفارتی ذرائع
پیرس میں شام اور اسرائیل کے وفود کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والی غیر معمولی ملاقات میں فریقین نے جنوبی شام میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور 1974 ءکے فائر بندی معاہدے کو دوبارہ فعال بنانے کے امکانات پر بات چیت کی۔ العربیہ اور دیگر خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق شامی سفارتی ذرائع نے ہفتے کو تصدیق کی کہ یہ ملاقات حتمی معاہدے پر نہیں پہنچی، بلکہ ابتدائی نوعیت کی مشاورت رہی۔
سرکاری شامی ٹی وی کے مطابق، مذاکرات میں شام کی وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ اسرائیلی وفد کی قیادت وزیر برائے اسٹریٹیجک امور رون دِرمَر نے کی۔ امریکی ایلچی ٹام بَرّاک نے بھی اس ملاقات میں شرکت کی، اور بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اس کی تصدیق کی۔
شامی ذرائع کے مطابق بات چیت کا محور حالیہ سکیورٹی صورت حال، خاص طور پر جنوبی شام میں کشیدگی کو کم کرنا، اور دونوں ملکوں کے درمیان رابطے کی بند راہیں دوبارہ کھولنے کی کوشش تھا۔ شامی وفد نے اسرائیلی فوج کی ان پوزیشنز سے فوری واپسی کا مطالبہ کیا جن پر حالیہ دنوں میں قبضہ کیا گیا ہے، اور 1974ء کے معاہدے پر بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ عمل درآمد پر زور دیا۔
یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب 13 جولائی کو السویداء میں جھڑپوں کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے دمشق اور جنوبی شام میں مختلف اہداف پر حملے کیے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ جنوبی شام میں کسی بھی فوجی موجودگی کی اجازت نہیں دے گا۔
شامی وفد نے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ شام کی وحدت، خودمختاری اور زمینی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ السویداء اور اس کے عوام ریاست کا اٹوٹ حصہ ہیں جنہیں کسی طور الگ نہیں کیا جا سکتا۔
مذاکرات کے اختتام پر طے پایا کہ مستقبل قریب میں مزید ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے اور جنوبی شام میں پائیدار استحکام کی بنیاد رکھی جا سکے۔
ذرائع نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ اس سے قبل 12 جولائی کو آذربائیجان کے دورے کے موقع پر شامی صدر احمد الشرع کے وفد کے ایک رکن اور اسرائیلی نمائندے کے درمیان براہ راست ملاقات بھی ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ پچھلے سال دسمبر میں بشار الاسد کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد نئی شامی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد جنوبی شام میں فوجی تصادم کو روکنا اور اسرائیلی حملوں کے دائرے کو محدود کرنا ہے۔ شامی موقف کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد 1974 کے معاہدے پر واپسی ہے، جس کے تحت جنگ بندی قائم رہتی ہے اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک غیر فوجی زون قائم رکھا جاتا ہے۔