آنگ سان سوچی (بائیں) اور نائب صدور ہنری وان تھیو (دوسرے بائیں) اور مائینٹ سوئی 30 مارچ 2016 کو نیپیتاو میں صدارتی محل میں سبکدوش ہونے والے صدر تھین سین کی طرف سے اقتدار میانمار کے نئے صدر تین چیاؤ کے حوالے کرنے کی تقریب میں شریک ہیں۔ (رائٹرز)
میانمار کی فوجی حکومت کے تحت کام کرنے والے صدر کا انتقال، سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ
ریاستی نشریاتی ادارے نے جمعرات کو بتایا کہ میانمار کے صدر مائینٹ سوئی طبی رخصت پر جانے کے ایک سال بعد انتقال کر گئے ہیں۔ انہوں نے 2021 میں ایک منتخب سویلین حکومت کے خلاف بغاوت کر کے میانمار کی صدارت حاصل کی اور اور اقتدار فوری طور پر فوج کو سونپ دیا تھا۔
سرکاری ایم آر ٹی وی نے بتایا کہ 74 سالہ سابق جنرل جمعرات کی صبح ہسپتال میں انتقال کر گئے۔
بغاوت کے دوران اقتدار میں آنے والے ون مائینٹ کی نوبل انعام یافتہ اور ڈی فیکٹو لیڈر آنگ سان سوچی کے ہمراہ گرفتاری کے بعد وہ برائے نام صدر رہ گئے تھے۔ تب سے وہ دونوں حراست میں ہیں۔
میانمار اس وقت سے افراتفری کا شکار ہے جب بغاوت کی وجہ سے جنوب مشرقی ایشیائی ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا جبکہ فوج بغاوت پر قابو پانے کے لیے لڑ رہی ہے اور اس پر وسیع پیمانے پر مظالم کا الزامات ہیں جن کی وہ تردید کرتی ہے۔
مائینٹ سوئی نے صدر بننے سے پہلے میانمار کے نیم شہری نظام کے تحت نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
فوجی حکومت نے اپنے فرامین پر دستخط کرنے اور اپنی حکمرانی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ان پر انحصار کیا تھا۔
انہیں گذشتہ سال جولائی میں طبی رخصت پر رکھا گیا تھا جس کے بعد ان کی ذمہ داریاں فوجی حکومت کے سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر من آنگ ہلینگ کو سونپ دی گئی تھیں۔
اس سال کے آخر میں طے شدہ انتخابات سے قبل فوج نے گذشتہ ہفتے اقتدار سویلین کے زیرِ قیادت ایک عبوری حکومت کو برائے نام منتقل کر دیا جس میں فوجی سربراہ قائم مقام صدر کے طور پر اپنے دوسرے کردار میں جنگ زدہ ملک کے سربراہ رہیں گے۔