جرمن چانسلر فریڈرک مرز۔ (رائٹرز)

جرمنی کی اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد پر پابندی غزہ کے توسیعی منصوبوں کا جواب ہے

اس کے باوجود جرمنی کی اسرائیل پالیسی بدستور وہی رہے گی: مرز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اتوار کو عوامی نشریاتی ادارے اے آر ڈی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ جرمنی کا اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات روکنے کا فیصلہ اس منصوبے کے جواب میں کیا گیا ہے جو غزہ کی پٹی میں اسرائیل نے اپنی کارروائیوں کو وسعت دینے کے لیے کیا ہے۔

مرز نے کہا، "ہم اس تنازعہ کے لیے ہتھیار نہیں پہنچا سکتے جو اب صرف فوجی ذرائع تک رہ گیا رہا ہے۔ ہم سفارتی طور پر مدد کرنا چاہتے ہیں اور ایسا کر رہے ہیں۔"

غزہ میں بڑھتا ہوا انسانی بحران اور انکلیو پر فوجی کنٹرول میں اضافہ کرنے کے اسرائیلی منصوبوں نے جرمنی کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے جو تاریخی طور پر مشکلات اور خطرات سے بھرپور ہے۔

چانسلر نے انٹرویو میں کہا، غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں میں توسیع سے لاکھوں شہریوں کی جانیں جا سکتی ہیں اور اس کے لیے پورا شہر خالی کرنے کی ضرورت ہو گی۔

انہوں نے کہا، "یہ لوگ کہاں جائیں گے؟ ہم ایسا نہیں کر سکتے، ایسا نہیں کریں گے اور میں ایسا نہیں کروں گا۔"

تاہم اس کے باوجود جرمنی کی اسرائیل پالیسی کے اصول بدستور برقرار ہیں جس کے حوالے سے مرز نے کہا، "جرمنی 80 سالوں سے اسرائیل کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔"

امریکہ کے بعد جرمنی اسرائیل کو ہتھیاروں کا دوسرا بڑا فراہم کنندہ ہے اور طویل عرصے سے اس کے سخت ترین حامیوں میں سے ایک رہا ہے جو بنیادی طور پر نازی ہولوکاسٹ کے لیے اس کے تاریخی جرم کی وجہ سے ہے۔ یہ ایک ایسی پالیسی ہے جسے "Staatsraison" کہا جاتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں