آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز 11 اکتوبر 2024 کو لاؤس کے وینٹیانے میں ہیں۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے منگل کو کہا کہ ان کے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاہو غزہ کی مخدوش انسانی صورتِ حال سے "انکاری" ہیں۔ ان کے اس بیان سے صرف ایک دن قبل آسٹریلیا نے پہلی بار فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت اپنے اتحادیوں کی بات سننے میں پس و پیش کا شکار ہے جس نے آسٹریلیا کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔
البانیز نے جمعرات کو نیتن یاہو سے فون پر بات کی تھی جس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے اے بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا، "انہوں نے مجھ سے پھر وہی بات دہرائی جو وہ اعلانیہ بھی کہہ چکے ہیں یعنی وہ بے گناہ لوگوں کو درپیش نتائج اور حالات سے انکاری ہیں۔"
دائیں طرف جھکاؤ رکھنے والی اپوزیشن لیڈر سوسن لی نے کہا، یہ اقدام جو اسرائیل اور فلسطینی علاقوں پر طویل عرصے سے جاری دو طرفہ آسٹریلوی پالیسی کے خلاف ہے، اس سے امریکہ کے ساتھ آسٹریلیا کے تعلقات کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
جذبات کی تبدیلی
البانیز نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کر سکتے۔
ان کی موجودہ مرکزی-بائیں بازو کی لیبر پارٹی جس نے مئی کے عام انتخابات میں زیادہ اکثریت حاصل کی تھی، قبل ازیں آسٹریلیا میں رائے عامہ کو تقسیم کرنے کے معاملے میں محتاط رہی ہے جہاں یہودی اور مسلم اقلیتیں خاطر خواہ تعداد میں ہیں۔
لیکن لوگوں میں فاقوں اور غذائیت کی قلت کی بڑھتی ہوئی اطلاعات کے درمیان جب اسرائیل نے غزہ پر فوجی کنٹرول حاصل کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تو عوام کے مزاج میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔
اس ماہ دسیوں ہزار مظاہرین نے سڈنی ہاربر برج پر مارچ کیا اور غزہ میں انسانی بحران کی سنگینی پر امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
فلینڈرز یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کی ایک سینئر لیکچرر جیسیکا جینور نے کہا، "اس فیصلے میں آسٹریلیا کے عوامی جذبات کارفرما ہیں جو حالیہ مہینوں میں تبدیل ہوئے ہیں اور آسٹریلیا کے باشندوں کی اکثریت غزہ میں انسانی بحران کا فوری خاتمہ دیکھنا چاہتی ہے۔"
اپوزیشن لیڈر لی نے کہا، یہ فیصلہ کلیدی اتحادی ریاست امریکہ کی "توہین" ہے جو فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتی ہے۔
انہوں نے ریڈیو سٹیشن ٹو جی بی کو ایک انٹرویو میں کہا، "ہم یہ قدم کبھی نہ اٹھاتے کیونکہ یہ ہمارے اصولوں کے بالکل خلاف ہے جن کے مطابق تسلیم کرنا اور دو ریاستی حل امن عمل کے اختتام پر آتے ہیں، اس سے پہلے نہیں۔"
ہمسایہ ملک نیوزی لینڈ نے کہا ہے کہ وہ بدستور اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے یا نہیں۔ اس فیصلے پر منگل کو سابق وزیرِ اعظم ہیلن کلارک نے شدید تنقید کی۔
"یہ ایک تباہ کن صورتِ حال ہے اور یہاں ہم نیوزی لینڈ میں اس بارے میں ایک نفیس نکتے پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا ہمیں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہیے یا نہیں۔ اس تباہی کو روکنے کی ضرورت کے لیے ہمیں اس میں اپنی آواز شامل کرنے کی ضرورت ہے،" انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے آر این زی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا۔
انہوں نے مزید کہا، "یہ وہ نیوزی لینڈ نہیں ہے جسے میں جانتی ہوں۔"