ایک میزائل جس کے بارے میں یمن کے حوثی گروپ کا کہنا ہے کہ 16 ستمبر 2024 کو اسرائیل کی جانب فائر کیا گیا تھا۔ تصویر حوثی ملٹری میڈیا سے بذریعہ رائٹرز۔

یمن سے داغا جانے والا میزائل فضا میں روک لیا گیا : اسرائیلی فوج

طے شدہ پروٹوکول کے تحت سائرن نہیں بجائے گئے : اسرئیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کی صبح یمن سے داغا گیا ایک میزائل فضا میں روک لیا گیا۔ یمن وہ ملک ہے جہاں سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اسرائیل پر میزائل حملے کرتی ہے ... اور دعویٰ کرتی ہے کہ یہ کارروائیاں غزہ میں حماس کی مدد کے لیے کی جا رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ "کچھ دیر پہلے اسرائیلی فضائیہ نے یمن سے داغا گیا ایک میزائل روک لیا"۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

بیان میں مزید بتایا گیا کہ "طے شدہ پروٹوکول کے تحت سائرن نہیں بجائے گئے"۔

حوثیوں نے فوری طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر 2023 کو حماس کے غیر معمولی حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ سے اب تک حوثی ملیشیا اسرائیل کی سمت مسلسل بیلسٹک میزائل اور ڈرون طیارے بھیجتے رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو راستے میں ہی تباہ کر دیا جاتا ہے۔

حوثی ملیشیا بحیرہ احمر میں ان تجارتی جہازوں پر بھی حملے کرتی ہے جن پر اس کا الزام ہے کہ وہ اسرائیل سے منسلک ہیں۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کے یہ حملے غزہ میں فلسطینیوں کی مدد کے لیے ہیں، جبکہ اسرائیل ان حملوں کے جواب میں یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول مقامات کو نشانہ بناتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں