ایک تمثیلی تصویر میں 23 جولائی 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چھوٹا تھری ڈی ماڈل، بھارتی پرچم اور لفظ ٹیرف نظر آ رہا ہے۔ (رائٹر)
بھارت کی روسی خام تیل کی خریداری کو روکنا ہو گا: امریکی مشیر ناوارو
ٹیرف میں اضافے نے بھارت اور چین کو قریب کر دیا ہے
وائٹ ہاؤس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے کہا، بھارت کی روسی خام تیل کی خریداری ماسکو کی یوکرین جنگ میں مالی معاونت کر رہی ہے اور اسے روکنا ہو گا۔ مالی فوائد کے لیے نئی دہلی "اب روس اور چین دونوں کے قریب ہو رہا ہے۔"
ناوارو نے فنانشل ٹائمز میں شائع شدہ ذاتی رائے پر مبنی ایک مضمون میں لکھا، "اگر بھارت امریکہ کے تزویری شراکت دار جیسا سلوک چاہتا ہے تو اسے بھی ایسا ہی کرنا ہو گا۔"
بھارتی وزارتِ خارجہ نے پہلے کہا ہے کہ ملک کو غیر منصفانہ طور پر روسی تیل خریدنے سے روکا جا رہا ہے جب کہ امریکہ اور یورپی یونین روس سے سامان کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ناوارو نے کہا، "بھارت روسی تیل کے لیے عالمی سہولت کار کے طور پر کام کرتا ہے جس سے پابندی شدہ خام تیل کو بیش قدر برآمدات میں تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ ماسکو کو اس کی ضرورت کے مطابق ڈالر مل جاتے ہیں۔"
مشیر نے یہ بھی کہا، جدید ترین امریکی فوجی صلاحیتوں کو بھارت منتقل کرنا خطرناک ہے کیونکہ نئی دہلی "اب روس اور چین دونوں سے قربت اختیار کر رہا ہے۔"
دیرینہ حریف چین اور بھارت اپنے بارے میں ٹرمپ کے غیر متوقع نکتہ نظر کے پس منظر میں خاموشی اور احتیاط سے تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اس ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنے والے ہیں جبکہ چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی پیر سے بھارت کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان متنازع سرحد پر بات چیت کی جائے۔
ایک ذریعے نے ہفتے کے آخر میں کہا کہ امریکی تجارتی مذاکرات کاروں کا 25 سے 29 اگست تک نئی دہلی کا طے شدہ دورہ منسوخ ہو گیا ہے۔ اس سے ایک مجوزہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات تاخیر کا شکار اور 27 اگست سے بھارتی اشیا پر اضافی امریکی محصولات میں کمی کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔