ایران پر پابندیاں ظاہر کرتی تصویر

وقت تیزی کے ساتھ ہاتھ سے نکل رہا ہے:برطانیہ کا ایران کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے مشرق وسطیٰ کے امور کے وزیر ہیمیش فالکونر نے کہا ہے کہ ان کا ملک سمجھتا ہے کہ تیس دنوں میں ایران کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کے ساتھ وقت ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرائیکا ممالک (برطانیہ، فرانس اور جرمنی) نے پابندیوں کو اس لیے روکا تھا تاکہ ایران اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔ مگر ایران نے ایسا نہیں کیا۔

فالکونر نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے اس حد تک یورینیم کی افزودگی کی ہو اور جوہری ہتھیار نہ بنائے ہوں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ گذشتہ منگل کی میٹنگز میں تینوں ممالک نے ایران سے بین الاقوامی قراردادوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ پابندیاں دوبارہ عائد نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایران کے فوری اقدامات کے ساتھ سفارتی عمل میں واپسی چاہتے ہیں۔

فالکونر نے اعلان کیا کہ برطانیہ اپنے شہریوں کے خلاف ملک اور اس کے باہر کسی بھی ایرانی خطرے کا جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معائنہ کاروں کو کم از کم کچھ مقامات پر ایران میں اپنا کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس یورینیم کا ذخیرہ ختم ہونے کی تصدیق صرف بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کے داخلے سے ہی ہو سکتی ہے۔

یورپی ٹرائیکا نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک خط بھیج کر ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے کے طریقہ کار کو فعال کیا تھا۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

فرانس کے وزیر خارجہ جین نوئل بارو نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ان کے ملک اور برطانیہ اور جرمنی نے اس طریقہ کار کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی کہ "جوہری کشیدگی کو مزید آگے نہیں بڑھنا چاہیے"۔

جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان فادیفول نے بھی کہا کہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے کا عمل سفارتی مذاکرات کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو سکتا ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب رائٹرز نیوز ایجنسی کو ملنے والے ایک خط سے یہ انکشاف ہوا کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی اگلے تیس دن ایران کے ساتھ زیر التواء مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

مکتوب میں مزید کہا گیا کہ تینوں ممالک سنہ 2015ء کے جوہری معاہدے کی توثیق کرنے والی قرارداد کی توسیع کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے تعمیری سفارت کاری میں شامل ہو۔

یہ سب کچھ اس کے بعد ہوا جب جنیوا میں ہونے والی میٹنگ سے واقف ایک ذریعے نے کہا کہ ایرانیوں نے "کوئی ٹھوس اور تفصیلی نتائج پیش نہیں کیے،" جس سے "پابندیوں کو دوبارہ عائد کرنے" کی آخری تاریخ میں توسیع کا دروازہ بند ہو گیا۔

یہ طریقہ کار خودکار طور پر ان تمام سلامتی کونسل کی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کر دیتا ہے جو سنہ 2015ء کے ایرانی جوہری معاہدے کے تحت ہٹا دی گئی تھیں۔ اس اقدام سے تہران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہونے کی توقع ہے اور ممکنہ طور پر ایران کی طرف سے انتقامی کارروائی ہو سکتی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں