26 اگست 2025 کو غزہ شہر میں ایک فلسطینی خاتون ایک بچے کو اٹھائے ہوئے ہے، جب وہ ایک گھر پر رات گئے اسرائیلی حملے کی جگہ کا معائنہ کر رہی ہے۔ REUTERS/ابراہیم حجاج
دو ریاستی حل میں رکاوٹ ڈالنے والے ہر شخص کو سزا ملنی چاہیے: سپین
یورپ اسرائیل کے ساتھ انسانی حقوق کے احترام کے ذریعے ہی تعلقات قائم کر سکتا ہے: وزیر خارجہ
سپین کے وزیر خارجہ خوزے مانویل الباریز نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے یورپی خارجہ پالیسی اور سلامتی کی ذمہ دار اہلکار کو ایک خط بھیجا ہے جس میں غزہ کے محصور علاقے کے حوالے سے ایک جامع یورپی اقدام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپ بہت کم اقدامات کر رہا ہے۔
غزہ کے لیے ہسپانوی منصوبہ
انہوں نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں واضح کیا کہ ان کے ملک نے غزہ کے لیے ایک منصوبہ تجویز کیا ہے جس کا آغاز اسرائیل کو یورپی ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی سے ہوتا ہے۔ اس منصوبے میں مزید افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنا بھی شامل ہے جس میں وہ ہر شخص شامل ہو جو "دو ریاستی حل" میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے کیونکہ یہی واحد حل ہے جو مشرق وسطی میں امن اور استحکام لا سکتا ہے۔
ہسپانوی منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی کو بڑے مالی وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل کی جانب سے ٹیکس روکے جانے کی وجہ سے فلسطینی اتھارٹی مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے تمام فیصلوں اور مشاورتی آراء کی تعمیل کرنا ضروری ہے۔ ان فیصلوں کے تحت غیر قانونی بستیوں سے آنے والی تمام قسم کی تجارت روکی جا سکتی ہے۔
پانچویں شق میں منصوبے نے یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان موجودہ معاہدے کو مکمل طور پر معطل کرنے کی تجویز دی ہے۔ ہسپانوی وزیر خارجہ خوزے مانویل الباریز نے زور دے کر کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو اس طرح سے جاری نہیں رکھا جا سکتا جیسے غزہ میں کوئی انسانی المیہ ہی نہیں ہو رہا ہو۔ حالانکہ غزہ میں ہزاروں فلسطینی بشمول بچے اور نوزائیدہ بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین اسرائیل کے ساتھ صرف اس صورت میں تعلقات رکھ سکتا ہے جب ان انسانی حقوق کا احترام ہو جو بڑے پیمانے پر اور منظم طریقے سے پامال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب متعلقہ کمیٹی اپنی رپورٹ میں سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کرتی ہے تو پھر کارروائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب بات کرنے کا نہیں، عمل کرنے کا وقت ہے۔ جنگ کو روکنے اور غزہ پر اسرائیلی محاصرہ توڑنے کے لیے عمل کریں۔
دو ریاستی حل
یاد رہے ہسپانوی وزیر نے کہا کہ مجوزہ عملی منصوبے میں کوئی غیر معمولی اقدامات نہیں ہیں بلکہ یہ صرف یورپی قوانین اور بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد کا مطالبہ ہے۔ انہوں نے "دو ریاستی حل" کے نفاذ کے لیے اقوام متحدہ کی کانفرنس کی بھی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ایک سال سے زائد عرصہ قبل ہم نے سپین میں فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ مجھے امید ہے کہ تقریبا 10 دیگر ممالک فلسطین کو تسلیم کریں گے۔ یورپی ممالک کی اکثریت جلد ہی فلسطین کو تسلیم کر لے گی اور یہ اسی عمل کا حصہ ہے جس کی قیادت سپین کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینی وفد اور صدر محمود عباس کو اقوام متحدہ کے اجلاسوں اور اس کے تحفظ اور استثنی سے محروم کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی اصول ہے جس پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور یورپی یونین کو اس کی حفاظت میں قیادت کرنی چاہیے۔
یہ منصوبہ اس وقت سامنے آیا جب اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر مذمت میں اضافہ ہوا اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں نے غزہ میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور بڑھتی ہوئی قحط کی وجہ سے ایک بڑے سانحے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔