FILE PHOTO: Iranian parliament speaker Ali Larijani attends a news conference in Damascus, Syria February 16, 2020. REUTERS/Omar Sanadiki/File Photo

ایران اور برطانیہ کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے برطانوی وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں جوہری مذاکرات کی بحالی اور ’’میکانزم آف اسنیپ بیک‘‘ کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

لاریجانی کے دفتر کے مطابق دونوں حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جوہری معاملات کو مذاکرات کے ذریعے منظم کرنے کے لیے تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

لاریجانی نے اس موقع پر کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے تیارہے، تاہم اپنے میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کی پابندی قبول نہیں کرے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لاریجانی نے لکھا کہ ’’امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بند نہیں ہوا، مگر امریکی صرف باتیں کرتے ہیں، مذاکرات کی میز پر نہیں آتے اور جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران مذاکرات نہیں کر رہا‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’امریکی ایسے مطالبات سامنے رکھتے ہیں جو ممکن ہی نہیں، مثلاً میزائلوں پر پابندیاں۔ یہ طرز عمل دراصل مذاکرات کے راستے کو بند کر دیتا ہے‘‘۔

یورپی ممالک کی "اسنیپ بیک" میکانزم کی بحالی

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے " اسنیپ بیک میکا نزم" کو فعال کیا ہے، جس کے تحت 2015ء کے جوہری معاہدے کے مطابق ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکتی ہیں۔ یہ اختیار اکتوبر میں ختم ہو جائے گا۔

امریکہ نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم ساتھ ہی اس نے ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جمود

قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جون کے وسط میں رک گئے تھے۔ اس کی بڑی وجہ اسرائیلی حملہ تھا جس میں امریکہ نے بھی ایران کی بعض جوہری تنصیبات پر کارروائی میں حصہ لیا تھا۔

امریکہ 2018ء میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق دور میں معاہدے سے دستبردار ہو کر ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ اس کے بعد ایران نے بھی اپنے بعض وعدوں سے پیچھے ہٹتے ہوئے یورینیم کی افزودگی بڑھا دی تھی۔

مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایران اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا پروگرام محض پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں