Belgium’s Vice-Prime Minister and Minister of Foreign Affairs Maxime Prevot gestures as he speaks during an interview with AFP in Brussels, on September 5, 2025. (AFP)
یورپی یونین غزہ جنگ کے حوالے سے 'ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہی': وزیرِ خارجہ بیلجیئم
بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ میکسم پریووٹ نے جمعہ کو اے ایف پی کو بتایا، خارجہ پالیسی کے حوالے سے یورپی یونین کی شہرت اور نیک نامی کو "نقصان پہنچ رہا ہے" کیونکہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے معاملے پر وہ اب تک کوئی قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔
پریووٹ نے برسلز میں اپنے دفتر میں ایک انٹرویو میں کہا، "ہم اپنا سر ریت میں نہیں دبا رہے، یہ بات ناقابلِ تردید ہے کہ اس مرحلے پر یورپی یونین اس عظیم انسانی بحران میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔"
بیلجیئم نے اس ماہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے جبکہ غزہ بحران کے پیشِ نظر یکطرفہ طور پر اسرائیل کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اپنے 27 رکن ممالک کے درمیان گہری تقسیم کے باعث اب تک اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
"عوام کی نظر میں یہ واضح ہے کہ اس خاص معاملے پر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی ساکھ ختم ہو رہی ہے،" پریووٹ نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا، بیلجیئم کا فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے اور بعض اسرائیلی وزراء پر پابندی لگانے کے فیصلے کا مقصد وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو ایک "مضبوط سیاسی اور سفارتی پیغام" بھیجنا تھا۔
فلسطینی ریاست کا اعتراف شاہی فرمان کے ذریعے دو شرائط کے ساتھ قانوناً نافذ العمل ہو گا: حماس کے زیرِ حراست تمام قیدیوں کی رہائی اور گروپ کا فلسطینی حکومت سے مکمل اخراج۔
پریوٹ نے کہا کہ اس کا مقصد غزہ میں "انسانی ہنگامی صورتِ حال پر جلد از جلد جوابی ردِ عمل دینے کے لیے اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنا" تھا۔
بیلجیئم کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا، "ایک اخلاقی ذمہ داری ہے اور عمل کرنے کے لیے ایک قانونی لازمہ بھی ہے؛ ممالک بین الاقوامی کنونشنز اور معاہدوں کے فریق ہیں جو نسل کشی واقع ہونے سے روکنے کے لیے ان کو تمام ضروری اقدامات کرنے کا پابند بناتے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "ہمیں بین الاقوامی قانون کا سرگرم محافظ ہونا چاہیے۔"