مونٹریوئل کے میئر پیٹریس بیساک (2nd R)، جس کے ساتھ سین-سینٹ-ڈینس ڈیپارٹمنٹ کی مقامی کونسل کے صدر اسٹیفن ٹراؤسل (R)، مسجد اصلاح میں خنزیر کے سر کی دریافت کے بعد ایمانداروں سے بات کر رہے ہیں، جو صبح سویرے عمارت کے دروازے پر چھوڑے گئے، مونٹریوئل، سین-سینٹسکی، 9 ستمبر کو باہر۔ 2025. (AFP0
فرانس: مساجد کے باہر سور کے کٹے ہوئے سر پھینکنے کے واقعات میں غیر ملکی ملوث ہیں
پیرس کے علاقے میں قائم پراسیکیوٹر کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانس میں مختلف مساجد کے باہر خنزیر کے سر کاٹ کر پھینکنے کے واقعات میں ان غیر ملکیوں کا دخل ہے جو حالیہ دنوں میں فرانس سے واپس گئے ہیں۔ان کا مقصد فرانس میں بے چینی پھیلانا ہے۔
نارمنڈی کے شمالی علاقے میں تفتیش کاروں کو ایک کسان نے بتایا دو لوگ گاڑی پر آئے جن کی گاڑی کی نمبر پلیٹ سربیئن معلوم ہوتی تھی۔ انہوں نے خنزیروں کے کئی سر اس سے خریدے اور چلے گئے۔
پراسیکیوٹر کے دفتر کا کہنا ہے کہ وہ ان رپورٹس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم پراسیکیوٹر نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے نہیں بتایا کہ مسلمانوں کی دل آزاری اور مساجد کی بے حرمتی کرنے کے پیچھے کس ملک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی ملوث ہیں۔ جنہوں نے حال ہی میں فرانس سے روانگی پکڑی تھی۔
یاد رہے فرانس کے صدر میکروں کی طرف سے فلسطینی ریاست کو ماہ ستمبر میں تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیلی ریاست اور اسرائیلیوں کا فرانس کے بارے میں غصہ غیر معمولی حد تک بڑھا ہوا ہے۔