نیویارک کے مین ہٹن میں 30 ستمبر 2015 کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک تقریب کے دوران فلسطینی پرچم لہرا رہا ہے۔ (رائٹرز)
لکسمبرگ نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے سربراہی اجلاس میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک میں شامل ہو گا۔
پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لکسمبرگ کے وزیرِ اعظم لوک فریڈن نے کہا، "حالیہ مہینوں میں زمینی صورتِ حال کافی خراب ہو گئی ہے۔ اب ایک تحریک یورپ اور دنیا کے طول و عرض میں ابھر رہی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ دو ریاستی حل اب بھی اہم اور ضروری ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "یہی وجہ ہے کہ لکسمبرگ کی حکومت ان ممالک میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتی ہے جو دو ریاستی حل پر اگلے ہفتے ہونے والی کانفرنس میں ریاست فلسطین کو تسلیم کریں گے۔"
برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور بیلجیئم نے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکہ نے اس پر شدید تنقید کی ہے اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا کہ اس اقدام سے حماس کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔