خبروں کی ویب سائٹ “axios” کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا اس مرحلے پر قریب نظر نہیں آتا.
"اسرائیل نے شام کو ایک نئے سکیورٹی معاہدے کی تجویز پیش کی ہے" ... ذرائع کا انکشاف
اسرائیل اور شام کے درمیان جاری مذاکرات میں تل ابیب نے دمشق کو ایک تفصیلی سکیورٹی معاہدے کی تجویز پیش کی ہے، جس میں ایک نقشہ بھی شامل ہے۔ یہ بات دو با خبر ذرائع نے بتائی۔ اس نقشے میں جنوب مغربی دمشق سے لے کر اسرائیلی سرحد تک مجوزہ علاقوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ یہ خبر امریکی ویب سائٹ "axios" نے منگل کو اپنی رپورٹ میں بتائی۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر برائے تزویراتی امور رون ڈیرمر اور شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی بدھ کو لندن میں اس تجویز پر بات کریں گے۔ ملاقات میں امریکی ایلچی ٹوم براک بھی موجود ہوں گے، جو دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس اسرائیل، شام اور امریکا کے درمیان اس نوعیت کی تیسری سہ فریقی ملاقات ہو گی۔
ذرائع کے مطابق بات چیت میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن کسی حتمی معاہدے پر پہنچنا فی الحال قریب نظر نہیں آتا۔
شامی صدر احمد الشرع نے گزشتہ ہفتے انکشاف کیا تھا کہ دمشق اسرائیل کے ساتھ اس مقصد کے لیے مذاکرات کر رہا ہے کہ اسرائیلی افواج ان علاقوں سے نکل جائیں جو سابق حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے قبضے میں لے لیے تھے۔ انھوں نے سرکاری ٹی وی کو بتایا "ہم اس وقت مذاکرات کے مرحلے میں ہیں۔"
انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے سابق حکومت کے سقوط کے ساتھ ہی یہ سمجھ لیا تھا کہ شام (1974 کے) جنگ بندی معاہدے سے باہر ہو گیا ہے، حالانکہ دمشق نے ابتدا سے ہی اپنی وابستگی ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق اب نیا سکیورٹی معاہدہ زیرِ بحث ہے تاکہ اسرائیل 8 دسمبر سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گزشتہ ماہ (اگست) کے آخر میں کہا تھا کہ ان کی حکومت شام کے جنوب کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لیے رابطے کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور شام کے درمیان با ضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں اور دونوں ممالک 1948 سے تا حال رسمی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔ تاہم گزشتہ عرصے کے دوران دونوں فریقوں نے امریکی سرپرستی میں کئی ملاقاتیں کی ہیں۔